خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 551
خطبات طاہر جلد ۱۲ 551 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء سے الگ ہوتے ہوئے بھی ہمیں جماعت کے ساتھ ایک عالمی رابطے کا اتنا گہرا اور پیارا احساس ہوا ہے کہ جس نے قید کی سب تکلیفیں بھلا دی ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیواریں اب ہماری راہ میں حائل نہیں ہو سکتیں ۔ ہم اسی طرح ہی جماعت کا ایک جزو ہیں جس طرح وہ آزاد احمدی جو دنیا میں پھر رہے ہیں اور اس وساطت سے طبیعت میں جو ایک لذت پیدا ہوئی ہے، جو سرور حاصل ہوا ہے اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا تو یہ سارے خدا تعالیٰ کے احسانات ہیں اور وہی تو حید کا ہی مضمون ہے جو آج عملی صورت میں جاری وساری ہے۔ ہم عاجز گنہگاروں اور کمزوروں کے سپر د اللہ تعالیٰ نے یہ کام کیا تھا کہ تمام دنیا کی قوموں کو امت واحدہ میں تبدیل کر دو۔ ہم پر یہ ذمہ داری ڈالی تھی کہ دنیا سے تمام سعید روحوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرو اور وہ ہاتھ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہے۔ اس ہاتھ پر اکٹھا کرنے کے لئے ہماری مجبوریاں، ہماری بے کسیاں ، ہماری بے بساطی حائل تھیں اور ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہم میں یہ طاقت ہوگی کہ تمام دنیا کو ایک امت واحدہ میں تبدیل کر دیں مگر دیکھتے دیکھتے آسمان سے وہ تقدیریں نازل ہوئی ہیں جنہوں نے اس دور کے خواب کو آج کی ایک حقیقت میں تبدیل کر دیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اور ان احسانات کا جتنا بھی آپ شعور حاصل کریں گے اتنا زیادہ طبیعت حمد کی طرف مائل ہو گی اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہو گی ۔ یہ احسان ایسا نہیں کہ ایک دو باتوں اور ایک دو تذکروں میں اس کی تفاصیل بیان ہوسکیں ۔اتنے گہرے اور مستقل اور اتنے وسیع اثرات اس نئے دور میں اس ذریعہ سے جاری ہو چکے ہیں اور ساری دنیا کے احمدی اس شدت سے اس کیفیت کو محسوس کر رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ایک عظیم فضل نازل ہوا ہے جس نے گرتی اور بعض جگہ لڑکھڑاتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیا ہے، مضبوط ہاتھوں میں تھامی گئی ہے، مضبوط رشتوں میں باندھی گئی ہے اور ساری دنیا کی ایک جماعت ہونے کا احساس جس شدت کے ساتھ اس دور میں ابھرا ہے اس کا اس سے پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پس میں اس خطبہ کے ذریعہ جو آج پاکستان کی جیلوں میں بھی سنا جا رہا ہے خصوصیت کے ساتھ اپنے ان اسیران راہ مولا کو السلام علیکم کہتا ہوں اور مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ ہی کی دعائیں ہیں ، آپ ہی کی قربانیاں ہیں اور آپ جیسوں کی دعائیں اور آپ جیسوں کی قربانیاں ہیں ۔ ان شہداء کا خون ہے جو رنگ لا رہا ہے، آپ کی آہیں اور سسکیاں ہیں جو ایک عالمی آواز میں تبدیل ہوگئی