خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 550
خطبات طاہر جلد ۱۲ 550 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء میں جو جماعتیں اب تک قائم ہو چکی ہیں ان سب میں انشاء اللہ تعالیٰ اسی طرح مرکزی جلسے کی متابعت میں جلسے ہوا کریں گے لیکن اس کے باوجود ایک فرق ہے اور وہ مرکزی جلسے کی اپنی ایک سعادت اور امتیاز ہے جو اسی کو رہے گا۔اس کے نمونے ہیں، اس کے ہم شکل جلسے ہیں جو پھیلتے چلے جائیں گے۔یہ تو ایک انتشار فیض ہے جس کے نمونے ہم دنیا میں دیکھ رہے ہیں اور جو انتشار فیض ، اللہ کے فضل کے ساتھ بڑھتا چلا جائے گا اور وسعت اختیار کرتا چلا جائے گا۔ایک فیض کے انتشار کے بعد پھر ارتکاز ہے یعنی چیزوں کا مرکز کی طرف لوٹ آنا اور اجتماعیت کی ایک عالمی شکل دکھائی دینا۔وہ ارتکاز فیض اب خدا کے فضل سے مواصلاتی سیاروں کے ذریعہ تمام دنیا کی جماعتوں کو نصیب ہو گیا ہے اور اس جلسہ سالانہ پر یہ ارتکاز بڑی شان کے ساتھ جلوہ گر ہوگا اور ساری دنیا کی احمدی جماعتیں خدا کے فضل سے اس سے استفادہ کریں گی۔اس ضمن میں ایک نیا اضافہ یہ ہوا ہے کہ ریڈیو کے ذریعہ تمام دنیا میں شارٹ ویو 16۔میٹر بینڈ پر یہ خطبہ ہر جگہ سنائی دے سکتا ہے۔آسٹریلیا میں اس سے پہلے شکایت تھی کہ تصویر جو ہے یہ ٹیلی ویژن کے ذریعہ پوری طرح صاف نہیں پہنچتی اور بعض حصوں میں پہنچتی ہوگی بعض میں نہیں پہنچتی تھی لیکن دو تین دن ہوئے مجھے آسٹریلیا سے ایک خط ملا ہے جس میں اس بات پر بہت ہی خوشی کا اظہار کیا گیا ہے کہ ریڈیو کے ذریعہ ہم نے اسی طرح بالکل صاف خطبہ سنا ہے جیسے سامنے بیٹھے سن رہے ہوں۔تو اب ریڈیو کے ذریعہ جو تعلق پھیل رہا ہے اس نے خلا پر کر دیے ہیں۔تصویر ہر جگہ اس لئے نہیں پہنچ سکتی کہ اس کے لئے ڈش انٹینا کی ضرورت ہے، بڑے اہتماموں کی ضرورت ہے، ہر شخص کو ڈش انٹینا کے مرکز تک پہنچنے کی بھی توفیق نہیں مل سکتی، کچھ بیمار ہیں جو گھروں سے نکل نہیں سکتے ، کچھ عورتیں اور بچے ہیں جن کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ باہر جا کر کہیں خطبہ سن سکیں یا دیکھ سکیں۔یہ جو نیچ کے خلا تھے یہ تمام کے تمام خدا کے فضل کے ساتھ خطبات کے ریڈیائی انتشار کے ذریعہ پورے ہو چکے ہیں۔اس ضمن میں مجھے پاکستان کی ایک جیل سے ایک اسیر راہ مولا کا خط موصول ہوا جس کا دل پر بہت گہرا اثر پڑا۔انہوں نے لکھا کہ ہم پر اللہ کا بڑا احسان ہوا ہے، اب ہم ریڈیو کے ذریعہ آپ کا خطبه براه راست سن رہے ہیں اور سن سکتے ہیں اور اپنے اپنے سیلوں میں ، قیدوں میں ایک دوسرے