خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 543
خطبات طاہر جلد ۱۲ 543 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء مقام توحید پر ( وہ مقام تو حید ہی تھا اس کی انتہا تھی ) ایک تصویر ہے جو حضرت علی کی ہے اور تمام ملائکہ اس کو سجدہ کر رہے ہیں۔میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نعوذ باللہ سب شیعہ مشرک ہیں نہ سارے سنی موحد ہیں مگر مراد یہ ہے کہ ایک شرک کی غلطی دوسرے شرک پر منتج ہوتی ہے۔آگے بڑھتی ہے، رخنے پیدا کرتی ہے امتوں کو تقسیم کر دیتی ہے اور بالآخر توحید میں رخنے ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔پس شرک کو معمولی نہ سمجھیں خواہ وہ کسی سطح پر ہی ہو۔خلافت کا تعلق توحید سے ہے اور اتنا گہرا تعلق ہے کہ قرآن کریم نے آیت استخلاف میں خلافت کا اعلیٰ مقصد گویا یہ بیان فرمایا ہے کہ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُوْنَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ ( النور (۵۲) استخلاف کا یہ مضمون تو حید سے تعلق رکھتا ہے اسی لئے تم میں خلفاء آئیں گے اور تمہیں خدا نے اپنا خلیفہ بنالیا ہے تا کہ خلافت سے وابستہ لوگ یا میری خلیفه امت یعنی محمد رسول ﷺ کی امت يَعْبُدُونَنِی ، میری ہی عبادت کریں لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا اور میرے ساتھ ہر گز کسی کو شریک نہ بنالیں۔اس دور میں بھی ہم شرک فی الخلافتہ کی کئی صورتیں دیکھی ہیں اور ان کی پہچان بھی مشکل کام نہیں اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ قریب کی تاریخ کے حوالے سے ایک دو مثالیں آپ کے سامنے رکھوں اور اگر وقت ختم ہو گیا تو آئندہ خطبہ میں یہیں سے مضمون شروع کروں گا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں خصوصیت سے میں نے محسوس کیا کہ بہت سے صحابہ بہت سے بزرگ ، بہت سے دعا گو ایسے تھے جن کو خود حضرت مصلح موعود بھی دعاؤں کے لئے لکھا کرتے تھے اور خلق کا رجحان ان کی طرف تھا اور لوگ بہت ہی کثرت سے ان کے پاس پہنچتے، دعا کرواتے ، تحائف پیش کرتے مگر کبھی بھی حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ادنی سی بھی رقابت محسوس نہ کی بلکہ ان باتوں سے خوش ہوتے تھے اور خود بھی ان کو دعاؤں کے لئے لکھتے تھے، استخارہ کروانے کے لئے بزرگوں کی ایک فہرست بنوائی ہوئی تھی اور پرائیویٹ سیکرٹری کو گویا کہ حکم تھا کہ جب مشکل وقت آئے تو ان کو لکھو تا کہ ان کی دعا بھی ہماری دعاؤں میں شامل حال ہو جائے۔یہ بزرگ ہیں اور خدا سے تعلق رکھنے والے ہیں وجہ کیا ہے ؟ وجہ یہ ہے کہ ان سب کے متعلق خلیفہ اسیح کو پورا اعتماد تھا کہ یہ