خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 540
خطبات طاہر جلد ۱۲ 540 خطبہ جمعہ ۱۶ جولائی ۱۹۹۳ء ہر ایک کا دل گواہ ہے کہ میں مشرک ہوں اور خدا سے نہیں بلکہ عیسی سے میرا زیادہ پیار ہے اس شرک کو پھیلانے میں سینٹ پال نے سب سے بڑا کردار ادا کیا ہے اور ایسے فلسفیانہ رنگ میں اس نے ان مضامین کو پیش کیا جو فلسفے سے زیادہ جہالت کے تانے بانے تھے لیکن عوام الناس ان کو سمجھ نہیں سکتے تھے اور عیسی سے محبت کرنے والوں کو گویا ایک فلسفیانہ دلیل ہاتھ آگئی۔ اس طرح انہوں نے اپنے شرک کو مزید آگے بڑھانا شروع کر دیا۔ یہ جو مضمون ہے اسکو سینٹ پال نے ایک خط میں اس طرح بیان کیا کہ عیسیٰ خدا کے بیٹے کی صورت میں سامنے ظاہر ہوئے ہیں لیکن خدا ہی ہے جو اصل ہے مگر اس دنیا میں جب تک قیامت نہیں آتی خدا کے تمام اختیارات عیسی کو سونپ دئے گئے ہیں اور ان تمام اختیارات سے کام لے کر اپنے ساتھ جب ہمیں ملاتا ہے تو دراصل خدا کے ساتھ ملا رہا ہوتا ہے۔ تو کیا یہ ہمیشہ کے لئے یہیں رہے گا ؟ جب یہ سوال ان کے ذہن میں اٹھا تو پھر آخر پر یہ لکھا لیکن جب قیامت آجائے گی اور سب لوگ خدا کے حضور پیش ہوں گے تو عیسی کہیں گے کہ اے خدا لے تیری خدائی تیرے حوالے۔ میں نے جو خدائی کرنی تھی کر لی اور پھر صرف ایک ہی خدا رہ جائے گا ایسی جاہلا نہ باتوں کو فلسفہ سمجھ کر امتوں کو ہلاک کر دینا بہت ہی بڑی بدنصیبی ہے لیکن ایسا ہوا اور یہ جو بنیادی جہالت ہے یہ ہر جگہ کار فرما ہے ہر سطح پر کار فرما ہے۔ حضرت علیؓ سے محبت کرنے والوں نے بے نے بعض دفعہ اتنا غلو کیا کہ آنحضرت ﷺ کے مقام مقابل پر ان کا مرتبہ بڑھانا شروع کر دیا کیونکہ جب بنیادی طور پر یہ عقیدہ بنایا کہ حضرت علی وہی ہیں تو اس کا تعلق دار اصل شرک فی الخلافۃ سے ہے۔ یاد رکھیں کہ ایک شرک دوسرے کو پیدا کرتا ہے جس طرح ایک نفرت نفرت کے بچے دیتی ہے اس طرح شرک ضرور شرک کے بچے دیتا ہے۔ پہلے حضرت ابو بکر، صلى الله صلى الله حضرت عمر، حضرت عثمان سے رقابت کے نتیجہ میں ان سے مقام بڑھانا شروع کیا پھر آنحضرت تک بات پہنچی اور وہی کہا یعنی آپ کی تمام خوبیوں کے وارث یہ ہیں اور ان کے حق میں وصیت کی گئی جو پھر اس مضمون کو یہ رنگ دے دیا کہ گویا وصیت اس لئے تھی کہ حق بحق دار رسید یعنی رسول کریم گویا امین ہی تھے اور جس طرح قیامت کے دن عیسی خدائی خدا کے سپرد کر دے گا ان کے بعض فرقوں میں وصیت کو یہ رنگ دیا کہ گویا رسول اللہ ﷺ نے جس کا حق تھا اس کے سپرد کر دیا اور غلو جو بڑھنا شروع ہوا تو اس نے جو صورتیں اختیار کیں ان کی چند مثالیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ اول تو