خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 539 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 539

خطبات طاہر جلد ۱۲ 539 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء جن سے یہ باتیں پہچانی جاتیں ہیں مگر بعض اور ضروری باتیں بیان کرتا ہوں اس لئے سر دست اس حصہ کو چھوڑتا ہوں۔پس حضرت محمد ﷺ کے ساتھ اگر سچی گہری عارفانہ محبت کی بجائے عصبیت کی وجہ سے آپ کی بڑائی بیان کی جارہی ہو تو یہ شرک در اصل نیچے اتر کر دوسرے بت بنانے شروع کر دیتا ہے اور وہ سارے لوگ جو اولیاء سے مانگتے ہیں ان کی قبروں کی پوجا کرتے ہیں، ان کے نام پر جانیں فدا کرتے ہیں، ان کی زندگی میں گویا خدا کا سارا کاروبار اس بزرگ کا پیدا کرنا تھا اور اس کو پیدا کر کے گویا خدائی صفات اس کے سپرد ہو گئیں۔اب جو کچھ ہے وہی ہے۔اللہ سے براہ راست محبت کا کوئی مضمون ان کے ہاں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ایک ولی کی پوجا کی جارہی ہے اس کی قبر کی پوجا کی جارہی ہے اس کے اوپر چادریں چڑھائی جارہی ہیں اور چادر چڑھا کر جب واپس آؤ تو اس ولی کا نام تو شاید دل میں رہے یا نہ رہے مگر خدا کا کوئی نام دل میں نہیں رہتا، ساری زندگی خدا سے خالی رہتی ہے اور یہی ان کا سارا دین ہے۔پس وہ محبت جو کسی بزرگ سے ہو اور وہ محبت خدا کی محبت میں غیر معمولی طاقت اور شان پیدا کرنے والی نہ ہو تو وہ محبت شرک ہے اور اس شرک نے امتوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔امت عیسوی کا حال دیکھیں۔ان میں بنیادی طور پر یہی شرک ہے جس نے بالآخر عیسی کے ماننے والوں کو ہمیشہ کے لئے ہلاکت کی آگ میں جھونک دیا۔اس کی علامتیں قرآن کریم نے بڑی کھول کر بیان فرمائی ہیں۔اگر وہ تو حید باری تعالیٰ کے دعویٰ میں بچے ہیں تو جب صرف اللہ کا نام لیا جائے تو ان کے دل میں اسی طرح محبت موجزن ہونی چاہئے جیسی ایک عاشق کی اپنے محبوب کا نام سن کے ہوتی ہے لیکن یہ مشرکین وہ ہیں کہ اگر اللہ کے ساتھ عیسی کا نام نہ لیا جائے تو دل کو سکون نہیں ملتا لیکن عیسی کے نام کے ساتھ خدا کا نام بے شک نہ لیا جائے کوئی پرواہ نہیں۔یہاں تک کہ میسی علیہ السلام عملاً پورے خدا بن بیٹھے ہیں۔ہر ضرورت کے وقت، ہر فکر کے وقت ، ہر حاجت روائی کے وقت پہلا نام عیسی کا ذہن میں آتا ہے۔God The Father تو لگتا ہے اس کے ساتھ یونہی نوکر کے طور پر چمٹا ہے ورنہ اصل خدائی عیسی کی ہی خدائی ہے یہ دلوں کے اندر راسخ گہرے شرک کی علامتیں ہیں جو بالآخر امتوں کو ہلاک کر دیا کرتی ہیں۔پس وہ ہزارمنہ سے کہیں کہ خدائے واحد و یگانہ ہے اس کا بیٹا ہے اس کی ایک رونمائی ہے جو بیٹے کی صورت میں ہمارے سامنے ہے لیکن حقیقت میں