خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 538 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 538

خطبات طاہر جلد ۱۲ 538 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء اختیار کر لے کہ وہ نمایاں ہونی شروع ہو جائے اور اللہ تعالیٰ پیچھے ہٹنا شروع ہو جائے۔یوں محسوس ہو کہ خدا تعالیٰ تو صرف اس رسول کی خاطر ہے اور رسول خود اتنا حسین ہے کہ خدا تعالیٰ کے پاس اس سے عشق کئے بغیر چارہ نہیں تھا اور یہی مضمون جب اولیاء کی طرف منتقل ہوتا ہے تو پھر ساری امت جو صلى الله ان باتوں کی قائل ہو شرک سے بھر جاتی ہے۔اب یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت شرک پر منتج ہو اس کا مطلب ہے وہ محبت سچی نہیں تھی نظریں ٹیڑھی تھیں۔دراصل تعصبات نے بظاہر محبت کا رنگ اختیار کیا ہے اور یہ ممکن ہے محبت کا رنگ اختیار کیا ہے اور یہ ممکن ہے بعض دفعہ ایک انسان اپنوں کا اتنا تعصب رکھتا ہے کہ جسے اپنا سمجھتے اس کی بڑائی شروع کر دیتا ہے اور اس کو بڑھاتے بڑھاتے توازن بگڑ جاتا ہے۔پس آنحضرت مہ کو دوسروں کے مقابل پر بعض دفعہ اتنا بڑھا کر پیش کرنے کا موجب محبت نہیں ہوتی بلکہ اپنی عصبیت ہوتی ہے۔جہاں محبت کے نتیجہ میں حضرت اقدس مصطفی میں اللہ کا مقام تمام دنیا میں ہر غیر سے اونچا دکھایا جائے وہاں نشانی یہ ہے کہ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کا بالا اور ارفع مقام ہمیشہ اسی طرح قائم رہتا ہے بلکہ بڑھتا چلا جاتا ہے جہاں یہ رخنہ پیدا ہو جائے وہاں یوں لگتا ہے که عصبیت صرف رسول کریم ﷺ کو اٹھا ر ہی ہے۔اس کے سوا خدا کا بھی کوئی وجود نہیں گویا خدا اسی لئے تھا کہ صرف آنحضرت ﷺ کو پیدا کرتا اور اس کے بعد خدائی ختم ہوگئی یہ بار یک مضمون ہے لیکن اپنی توحید کی باریک راہوں پر حفاظت کرنی ہوگی حضرت اقدس مسیح موعود کو دیکھیں جتنا عشق حضرت محمد رسول اللہ یہ کہ آپ کے دل میں موجزن تھا ساری امت پر نگاہ ڈال کر دیکھیں اتنا آپ کو اس طرح کہیں جلوہ گر دکھائی نہیں دے گا۔کسی کے دل میں جو ہے وہ اللہ بہتر جانتا ہے مگر کسی کی عبارتوں میں، کسی کی تحریر میں، اس کی نظم میں اس کی نثر میں اس کے دن رات کے کلام میں کسی کا ایسا عشق موجزن ہو کہ اچھلتا ہوا کناروں سے باہر جاتا ہوا ، چھلکتا ہوا دکھائی دے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بڑھ کر آپ کی امت میں اور کہیں نظر نہیں آئے گا تلاش کر کے دیکھ لیں تحریریں پڑھ لیں نظم و نثر کا مطالعہ کر لیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بلکہ نمایاں ہیں لیکن آپ کا عشق محمدیہ کا مسلسل تو حید کا خادم رہا ہے۔ایک جگہ بھی اشارہ یا کنایةً عشق محمد ﷺ نے شرک کا رنگ اختیار نہیں کیا بلکہ دوسرے عشق کرنے والوں میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔اس کی اور بہت سی علامتیں ہیں