خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 533 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 533

خطبات طاہر جلد ۱۲ 533 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء ہوئے آپ نے ۲۵ ۳۰ سال حد مقررفرمائی تھی۔اس مدت میں ابھی کچھ عرصہ باقی ہے اور ہم بڑے نمایاں طور پر ان آثار کو روشن ہوتا دیکھ رہے ہیں اور ڈش انٹینا کے ذریعہ جو عالمی ملت واحدہ کی تعمیر کا پروگرام چل رہا ہے یہ تو حید ہی کا حصہ ہے۔اس کا توحید سے گہرا تعلق ہے۔پس جب بھی کوئی ایسی اچھی خبریں ملتی ہیں کہ دنیا کے مختلف کونوں کونوں میں احمدی ان خطبات کو دیکھ کر اور سن کر ایک وحدت کی لڑی میں پروئے ہوئے محسوس کرتے ہیں اور اس عالمی مواصلاتی نظام کے ذریعہ سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو ایک کرنے کا بڑا ہی عمدہ موقع اپنے فضل سے میسر فرمایا ہے تو اس سے دل حمد سے بھر جاتا ہے۔اس ضمن میں بعض خدمت کرنے والوں کے نام تو خدا کے فضل سے پہلے ہی جماعت میں معروف ہیں۔مثلاً جسوال برادران اور یہ ایک عالمی شہرت پانے والا خاندان بن گیا ہے کیونکہ ان کے ایک فردوسیم نے خصوصیت سے اس معاملہ میں میری بہت مدد کی اور جو بھی سمجھایا بڑی محنت اور خلوص کے ساتھ من وعن اس کو پورا کرنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے نیک پھل عطا فرمائے جو اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تمثیل کے نشان کے طور پر بڑھتے چلے جارہے ہیں۔یہ ایک درخت ہے جس کی شاخیں دنیا میں پھیلیں گی اور کل عالم پر محیط ہو جائیں گی اور پرندے اس کی شاخوں پر آکر بیٹھیں گے اور اپنے نغمات الاپیں گے وغیرہ وغیرہ۔یہ ایک عالمی درخت ہے ایک بین الاقوامی شجر کے طور پر یہ سلسلہ پھیلتا چلا جارہا ہے اور اللہ کے فضل سے بہت ہی نیک پھل لگ رہے ہیں۔اس کثرت سے مجھے دور دور سے خط آتے ہیں کہ ان خطبات کے نتیجہ میں ہمارے اندر اسلام زندہ ہو گیا ہے، جذ بے بیدار ہورہے ہیں، نمازیں پھر شروع کر دیں ہیں۔بعض لکھتے ہیں کہ ہم بیویوں پر سختیاں کیا کرتے تھے ظلم کرتے تھے ، گالی گلوچ کرتے تھے سب سے توبہ کر لی ہے۔بیویوں سے معافیاں مانگ لی ہیں انواع و اقسام کے مختلف رنگوں اور خوشبوؤں کے اتنے پھل لگ رہے ہیں کہ دل حمد سے بھر جاتا ہے۔اس ضمن میں دو اور خدمت کرنے والوں کا ذکر ضروری ہے۔ایک ان میں لاہور کے مکرم رشید خالد صاحب ہیں جو Universal Appliances کے مالک ہیں۔انہوں نے قادیان میں بہت خدمت کی ہے۔ہندوستان کے نوجوانوں کو الیکٹرونکس کی تربیت دینے کے لئے گئے اور پھر