خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 532 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 532

خطبات طاہر جلد ۱۲ 532 خطبہ جمعہ ۱۶ جولائی ۱۹۹۳ء کیا گیا۔اس کو پڑھ کر جہاں ایک طرف مجھے اطمینان ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جو غلطی تھی وہ ایسی خطرناک غلطی نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے مجھے مدت تک تکلیف رہتی۔اس کا کچھ جواز موجود ہے لیکن دوسری طرف ایک فکر بھی لاحق ہوئی قرآن کریم کی جو مختلف قرآتیں تھیں ان پر ہمیں ان معنوں میں کوئی اعتراض نہیں کہ وہ ثابت شدہ ہیں اور بعض معانی کی طرف اشارہ کرتی ہیں ان سے استفادہ کی حد تک تو یہ بالکل جائز اور درست ہے مگر علماء کے حوالوں سے اگر ایسی قرآتیں درست ہے بھی ثابت ہوں تو ایک ایسی قرآت جو کل عالم میں ایک خاص قرآت کے طور پر رواج پاچکی ہے اور امت واحدہ کی ایک نشانی بن گئی ہے اور قرآن کریم کو ایک وحدت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔اس کے برعکس ان متفرق قراتوں کو رواج دینے کا رجحان خطر ناک ہے اور مجھے پسند نہیں۔میں اپنے لئے اور جماعت کے کسی بزرگ کے لئے یا عام انسان کے لئے ہرگز پسند نہیں کرتا کہ وہ تفاسیر کے حوالے سے کچھ دوسری قرآتیں معلوم کرے اور پھر اصرار کرے کہ یہ قرآت بھی درست ہے اس لئے میں اسی طرح پڑھوں گا۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کو ایک قرآت پر جو اکٹھا فرمایا ہے یہ اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔یا د رکھیں جھوٹے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی جمع و تدوین میں کوئی بھی اتفاق نہیں۔قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز طور پر ایک عالمی وحدت اس طرح عطا فرمائی کہ ان تمام قراتوں کو بھی نظروں سے غائب کر دیا جو مختلف قرآتیں ہیں سوائے اس کے کہ علما کھوج لگا کر معلوم کریں اور ایک قرآت کل عالم میں رواج پاگئی ہے۔اس لئے اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ غلطی ہی تھی اور اس کی درستی کرنا ضروری تھی جو میں نے کر دی ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو ہمیشہ قرآن کریم کی ایسی خدمت کی توفیق عطا فرمائے کہ اس میں کسی پہلو سے بھی ادنی سارخنہ پڑنے کا شائبہ بھی جماعت پر نہ کیا جا سکے، اس کا وہم تو در کنار دشمن کی آنکھ بھی کسی ایسے رخنے کا کوئی تاثر نہ پکڑ سکے۔اب میں دوسرے پہلو کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اس کا بھی دراصل توحید ہی سے تعلق ہے۔ڈش انٹینا کے ذریعہ کل عالم میں جو خطبات نشر ہو رہے ہیں اور مشرق و مغرب کے احمدی بیک وقت جمعہ کے خطبہ سے استفادہ کر رہے ہیں یہ دراصل اسی مضمون کا حصہ ہے جس کو حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے بار بار اس طرح بیان فرمایا کہ ساری دنیا کوملت واحدہ یا امت واحدہ بنانے کا جو کام خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد فرمایا ہے اس کا وقت قریب آرہا ہے اور مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالتے