خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 531 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 531

خطبات طاہر جلد ۱۲ 531 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء شرک کی باریک در باریک راہوں سے بچیں۔امت واحدہ بنانا خلافت احمدیہ کے سپر د ہے اور کسی کو نصیب نہیں۔( خطبه جمعه فرموده ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء بمقام بیت الفضل لندن ) پھر فرمایا۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے قرآن کریم کی درج ذیل آیت تلاوت کی۔قُلْ إِنَّنِي هَدَنِي رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِيْنَا قِيَما مِّلَّةَ إِبْرهِيْمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (الانعام : ١٦٢) یہ آیت اور اس کے بعد کی آیات سے متعلق خطبوں کا ایک سلسلہ شروع ہے جس کا تعلق توحید سے ہے۔گزشتہ خطبہ میں اس آیت کی تلاوت کے وقت میں نے قیما کو قیماً پڑھا تھا اور خطبہ کے آخر پر وضاحت کر دی تھی کہ احباب اس کو غلطی سمجھیں اور درست کریں۔قیمے اور میں نے اس مضمون کو قیما ایک ہی مضمون کے دو ہم معنی لفظ ہیں لیکن بعض جگہ قرآن کریم نے اس مضمون کو قیما کے لفظ سے بیان فرمایا ہے اور ایک جگہ قیماً سے اس کے بعد ہمارے استاد مکرم مولوی محمد احمد جلیل صاحب کی طرف سے مجھے ایک بڑا ہی دلچسپ اور علمی خط ملا جس میں انہوں نے علمائے امت کے بہت ہی مؤقر اور مستند حوالے پیش کئے ہیں۔جو یہاں قیما کو قیماً پڑھنا جائز سمجھتے تھے۔چنانچہ علامہ رازی کی تفسیر کبیر سے بھی ایک حوالہ بیان کیا گیا ہے اور علامہ آلوسی بھی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں کہ کثیر قرا ء نے اسے قیماً پڑھا ہے اور اس کی تفصیلی بحثیں موجود ہیں کہ کیوں ایسا