خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 528
خطبات طاہر جلد ۱۲ 528 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۳ء یعنی اس کا حساب کتاب پھر بندوں کا کام نہیں ہے۔وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ دل سے جھوٹ بولا تھا اور نام کسی اور کالیا تھا۔ایک دوسری حدیث میں جو تفسیر ابن کثیر سے لی گئی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم فرماتے ہیں : یہ وہ لمبی حدیث ہے جس میں اہل نجران کے نام آنحضرت ﷺ کے خط کا مضمون بیان ہوا ہے۔نجران کے عیسائیوں کو جب آنحضرت ﷺ نے پناہ دی تو ان کو ایک پناہ نامہ لکھ کر دیا گیا اس میں جو باتیں مذکور تھیں ان میں دو باتیں یہ بھی تھیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران کو جو مذہباً عیسائی تھے ایک خط لکھا جس کا ایک حصہ یہ ہے۔ما بعد ! میں تم کو اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی غلامی اور پرستش سے نکل کر خدا کی بندگی اور پرستش اختیار کرو۔یہ توحید کا دوسرا فیض ہے جو میں آپ کے سامنے کھول کر رکھنا چاہتا ہوں۔پہلا تو یہ ہے کہ آپ دنیا سے امن میں آجاتے ہیں اگر خدائے واحد کا اقرار کرتے ہیں تو آپ کا حساب خدا پر ہے بندوں کا پھر کوئی حق نہیں کہ آپ پر زیادتی کریں اس میں یہ بات لازم ہے کہ آپ کسی اور پر زیادتی نہ کریں یعنی توحید کے اقرار کے نتیجہ میں پھر لا ز ما آپ کو ایسا ہونا پڑے گا کہ آپ کی طرف سے کسی کو کوئی شر نہ پہنچے۔پھر فرمایا کہ تو حید کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی غلامی اور پرستش سے نکل کر خدا کی غلامی اور پرستش میں داخل ہو جاؤ۔امر واقعہ یہ ہے کہ جو شخص صرف اللہ کو خدا بناتا ہے وہ تمام غیر اللہ کی عبادتوں سے آزاد کیا جاتا ہے، ہر قسم کی غلامیوں سے آزاد کیا جاتا ہے۔اب یہ جو مضمون ہے یہ مزید توجہ چاہتا ہے کیونکہ ایک انسان دنیا کے قانون سے ویسے تو آزاد نہیں ہے۔ایک انسان جو خدا تعالیٰ کی توحید کا اقرار کر لیتا ہے اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ وہ تمام بندوں کی غلامی اور پرستش سے آزاد ہو جاتا ہے۔یہ کیا معنی رکھتا ہے؟ ہم لوگ اب انگلستان میں ہیں اور انگلستان کے قانون کے پابند ہیں تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت میں اور قرآن کریم کی اس تعلیم میں کہ جہاں رہو وہاں اولوالامر کی اطاعت کرو کیا کوئی تضاد ہے؟ انسان کیسے آزاد ہوتا ہے؟ اس مضمون کو سمجھ کر انسان کے اندر روشنی کا ایک نیا سورج ابھر آتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ حکومتوں کی اطاعت یا قانون کی پابندیاں دراصل غلامی نہیں ہیں۔غلامی وہ