خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 529
خطبات طاہر جلد ۱۲ 529 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۳ء ذہنیت ہے جس کے نتیجہ میں انسان فیصلہ کرتے وقت خدا کو چھوڑ کر کسی اور طاقت کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کرتا ہے۔ایسی صورت میں انسان ہر کس و ناکس کا غلام بن جاتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو میں انشاء اللہ مزید تفصیل سے آئندہ خطبہ میں بیان کروں گا اور اس کو سمجھنے کے نتیجہ میں صحیح آزادی کی روح احمدیوں کو نصیب ہوگی اور احمدیوں کی وساطت سے تمام دنیا کوحقیقی آزادی کا پیغام ملے گا۔تو حید ہی میں آزادی ہے۔توحید کے سوا ہر چیز غلامی ہے اور ساری دنیا غلامی میں جکڑی گئی ہے اس غلامی کی زنجیروں کو کیسے توڑا جائے گا۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور اب چونکہ وقت ہو چکا ہے اس لئے آئندہ خطبہ سے میں اس مضمون سے متعلق مزید باتیں آپ کے سامنے رکھوں گا۔جو آیت میں نے قرآن کریم کی تلاوت کی تھی۔ایک لفظ دین قیم بھی ہے اور یہی مضمون قیما کے لفظ سے بھی ادا کیا جاتا ہے۔کیونکہ قیم کی عادت تھی۔مجھے بتایا گیا ہے کہ میں غلطی سے دِينًا قِيَما پڑھ گیا ہوں۔حالانکہ قرآن کریم کی اس آیت میں قیما کا لفظ ہے۔قیم کا نہیں۔تو اس تلفظ کی غلطی کو دور فرمالیا جائے۔معناقیم یاقیم میں اگر فرق ہے تو بہت معمولی تقریبا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔اور قرآن کریم کی جس چھوٹی سورۃ کا حوالہ دیا گیا تھا۔وہاں قیما یہی آیا ہے۔دِینًا قِيمًا اور مضمون وہی ہے جو قیما میں بیان ہوا ہے۔اس نے اگر چہ معنا کوئی فرق نہیں پڑا لیکن قرآن کریم کی تقدس کا یہ تقاضا ہے کہ اگر ادنیٰ بھی غلطی نہ ہو سوائے اس کے کہ لاعلمی میں انسان سے غلطی ہو جائے۔جس کو خدا تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے تو یا درکھیں کہ اس آیت کریمہ کو درست کر لیا جائے۔قیما لفظ ہے یہاں دِینًا قِيَما نہ کہ دینا قیما۔میں ممنون ہوں منیر احمد جاوید کا جنہوں نے یہ توجہ دلا دی ورنہ اگلے خطبہ میں لوگوں کو غلط فہمی ہوسکتی تھی۔امام نے یہ تجویز کی ہے کہ چونکہ آج خدام الاحمدیہ کا اجتماع بھی ہے اور بارش بھی ہو رہی ہے۔بہر حال اجتماع کی وجہ سے یہاں سے لوگوں نے اسلام آباد جانا ہے اس لئے نماز میں جمع کروائی جائیں۔اس لئے جمعہ کی نماز کے بعد عصر کی نماز بھی ساتھ جمع ہوگی۔