خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 525
خطبات طاہر جلد ۱۲ 525 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۳ء اس سے تعلق نہیں، کوئی واسطہ نہیں، پتا بھی لگے کہ کوئی چیز ہے تو آپ کہہ دیں کہ ہمیں اس سے کیا، دور آسمان پر کوئی چیز بیٹھی ہوئی ہو گی آنحضرت یہ کی تعلیمات کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جو آج کل کی دنیا کے لئے ایسے ہی ہیں جیسے آسمان کی بلندیوں پر نظر سے دور غائب کوئی چیز اڑ رہی ہے اور کوئی انسان سمجھتا ہے کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہمیں کیا اس سے۔ہوتی پھرے مگر واقعہ یہ ہے کہ اس کائنات میں جو انسانی اخلاق کی کائنات ہے اس میں جو آسمان آنحضرت ﷺ کو عطا کیا گیا ہے اور جو زمین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی ہے۔یہ وہ زمین و آسمان ہیں جن کا آپس میں گہرا رشتہ ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو آسمان پر ہو اور زمین پر اثر انداز نہ ہو یہ ویسا ہی ہے جیسے سائنس کی دنیا سے یہ ثابت ہے کہ وہ دور کی باتیں جو ہمیں ارب سال پہلے دنیا میں رونما ہوئی تھیں جبکہ دنیا نے اپنے آغاز کا پہلا قدم اٹھایا تھا اور پہلا سانس لیا تھا ان کا اثر آج تک دنیا پر پڑ رہا ہے اور وہ کائنات جو اپنے آخری کناروں پر مزید دور ہٹتی چلی جارہی ہے اس کی تاثیرات بھی دنیا پر پہنچتی ہیں اور اثر انداز ہوتی ہیں تو صلى الله آنحضرت ﷺ کی اخلاقی تعلیم جس بلند آسمان سے تعلق رکھتی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ بہت دور کی تعلیم ہے۔اس کا ہم سے کیا تعلق؟ یہ محض جاہلانہ باتیں ہیں۔کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں جس کا کسی نہ کسی رنگ میں دوسری چیز سے تعلق نہ ہو۔پس آنحضرت ﷺ کی تعلیمات کو اس تفصیل اور گہرائی کے ساتھ پڑھنا چاہئے اور یقین رکھنا چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ کے منہ سے نکلی ہوئی ادنی سی بات بھی گہرا اثر رکھتی ہے۔پس جس چیز کو آپ ادنی سمجھ رہے ہیں یعنی کانٹے کا رستے سے ہٹانا ایک ادنی سی بات ہے لیکن اس میں یہ غور کرنے کی بات ہے کہ یہ مضمون ایک اور رنگ میں سوچنا چاہئے۔وہ رنگ یہ ہے کہ جو شخص کانٹے کی تکلیف سے بھی بنی نوع انسان کو بچانے کے لئے ایسا خواہش مند ہو کہ رستہ چلتے اپنا وقت ضائع کرے، جھک جائے اور اس کا نٹے کو اٹھا کر دور کر دے وہ کیسے بے دین ہوسکتا ہے۔اس سے دنیا کو کیسے بدامنی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔پس یہ وہ انتہائی تعلیم ہے جو آپ کے تمام اعمال پر سایہ کئے ہوئے ہے۔یہ محض ایک الگ تعلیم نہیں ہے کہ صرف کانٹوں سے ہی ان لوگوں کو دشمنیاں ہیں کہ کانٹا ہٹا دیں۔مراد یہ ہے کہ یہاں تک وہ پاکدامن لوگ ہیں اور ایسے نیک نیت لوگ ہیں کہ باقی سب باتوں میں تو ان سے امن ہی امن ہے۔رستہ میں پڑے ہوئے کانٹے کی تکلیف کو بھی وہ دنیا کے لئے پسند نہیں کرتے۔پس جو