خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 521 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 521

خطبات طاہر جلد ۱۲ 521 خطبہ جمعہ ۹ جولائی ۱۹۹۳ء كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا کوئی جان بھی ایسی دکھائی نہیں دے گی جو اپنے روز مرہ کے اعمال کی ذمہ دار نہ بنتی ہو اور جب وہ غلطی کرتی ہے تو اس کی سزا بھگتی ہے۔دوسرا ا پہلو خصوصیت سے گناہوں سے تعلق رکھنے والا ہے۔وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أخرى روحانی دنیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پہلی دلیل روحانی قانون کو تقویت دینے کے لئے اور یہ سمجھانے کے لئے قائم کی گئی ہے کہ جب تم کا ئنات میں یہ دیکھ رہے ہو کہ ہر شخص اپنی غلطیوں کا ، اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے جو کچھ وہ کماتا ہے ویسا ہی اس کو ملتا ہے تو یا درکھو کہ یہی وہ قانون ہے جو مذہبی دنیا میں جاری وساری ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى یہ تمہارا وہم ہے کہ تمہارے بوجھ کوئی اور اٹھا کر چلے گا۔قیامت کے دن ہر شخص اپنے گناہوں کا، اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوگا اور کوئی دوسرا اس کے بوجھ اٹھانے والا نہیں ہو گا۔یہاں تک کہ مائیں اپنے بچوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکیں گی ، بہنیں اپنے بھائیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکیں گی ، خاوند اپنی بیویوں کے بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے، ہر شخص اکیلا اکیلا رہ جائے گا اور اسی مضمون کو یوں بیان فرمایا گیا کہ جیسے تم دنیا میں اکیلے صلى الله آئے تھے اسی طرح اکیلے اکیلے خدا کے حضور حاضر ہو گے اور تمہارا اور کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ثُمَّ إِلى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ پھر ایسی حالت میں تم نے اپنے رب کی طرف لوٹنا ب فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ اور تم کو ان امور کے متعلق بتائے گا جن میں تم اس دنیا میں اختلاف کیا کرتے تھے۔توحید کی یہ تعلیم قرآن کریم نے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو سکھلائی اور اس کے معاً بعد عملی طور پر توحید کا علمبر دار صلى الله حضرت محمد مصطفی ﷺ کو پیش کر کے ابراہیم کا حوالہ چھوڑ دیا اور تمام تر ذکر حضرت محمد مصطفی سے کا شروع ہو گیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا توحید کا مقام غیر معمولی تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ذکر کے ساتھ تاریخی طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام زندہ رکھا جاتا ہے اور یہ بائیبل کی پیشگوئی بھی تھی کہ آئندہ آنے والا ایک ایسا نبی ہوگا جس کی وجہ سے آخرین میں تیرے نام پر سلام بھیجا جائے گا۔پس اسی پیشگوئی کا مصداق حضرت ابراہیم علیہ السلام بنے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ اس طرح پورا فرمایا کہ توحید کے مضمون کو جہاں جہاں بھی ملتا ہے الا ماشاء اللہ ابراہیم کے نام کے ساتھ باندھا گیا ہے یا آپ کی صفات کے نام کے ساتھ باندھا گیا ہے۔حَنِيفًا جب فرمایا