خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 518
خطبات طاہر جلد ۱۲ 518 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۳ء کا پہلو رکھتی ہو جس میں دین کو خدا کے لئے خالص کر دیا گیا ہو، قائم ہونے کی ہدایت فرمائی۔پس آدم سے لے کر حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تک ادیان کا خلاصہ یہی ہے جو دِينُ الْقَيِّمَةِ میں بیان فرما دیا گیا ہے اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ صرف اسلام نے تو حید کو پیش کیا۔توحید کے بغیر تو مذہب کا آغاز ہی نہیں ہو سکتا۔یہ وہ مذہب ہے جو اول بھی ہے اور آخر بھی ہے۔اول اور آخر جو خدا کی صفات بھی ہیں ان کا کامل خلاصہ تو حید ہے۔چنانچہ اس کے بعد آنحضرت کو یہ حکم ملتا ہے کہ یہ اعلان کر اور پھر کہہ کہ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ (الانعام:۱۶۲) وہ توحید خالص جسے دینِ قیم قرار دیا گیا ہے جسے حنیف ابراہیم کا مذہب قرار دیا گیا ہے وہ آنحضرت ﷺ کے وجود میں کس طرح جلوہ گر ہوئی۔اللہ فرماتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں۔اے محمد تو اعلان کر کہ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُکی میری عبادتیں اور میری تمام قربانیاں وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ اور میری تو ساری زندگی، میرا جینا مرنا کلیۂ خدا کے لئے ہو گیا ہے یہ توحید خالص کا طبعی نتیجہ ہے اور یہ وہ توحید خالص ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ کے اقرار میں نہیں ٹھہری بلکہ وہ اقرار آپ کے سارے وجود میں سرایت کر گیا جب تو حید خالص وجود میں سرایت کر جاتی ہے، خون میں دوڑنے لگتی ہے تو کیسا وجود ظاہر ہوتا ہے یہ وہ بیان ہے جو اس آیت میں ملتا ہے کہ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي تو کہہ دے کہ میری عبادت اور ہر قسم کی عبادت، میری قربانی اور ہر قسم کی قربانی ، میرا جینا میر امرنا سب کچھ خدا کے لئے ہو چکا ہے۔غیر اللہ کی ایسی نفی اس کامل شان کے ساتھ آپ کو دوسرے انبیاء میں بھی دکھائی نہیں دے گی مگر یہ مراد نہیں ہے کہ وہ موحد نہیں تھے توحید نے درجہ بدرجہ ترقی کی ہے، رفتہ رفتہ نئی شان توحید میں پیدا ہوئی ہے۔اس کا مفہوم زیادہ گہرائی کے ساتھ انسان کو سمجھایا گیا ہے اور وہ مقام جس پر حضرت محمد مصطفی میں یہ فائز ہوئے وہ توحید کا آخری مقام ہے۔پس اگر چہ تمام انبیاء توحید کے علمبر دار تھے اور تو حید ہی کی طرف بلانے والے تھے مگر نبی نبی میں اس پہلو سے فرق ہے پس جہاں بھی توحید کا مضمون ملتا ہے وہاں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے علاوہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا نام آپ کو سنائی دے گا اور یہ دو انبیاء ہیں جو تو حید کے مضمون میں اس درجہ کمال کو پہنچے ہیں کہ جیسے آسمان پر سورج اور چاند ہوں اور باقی سب ستارے ہیں جو نور سے جھلملاتے تو ضرور ہیں مگر ایسی صاف اور پاک روشنی نہیں رکھتے جیسے چاند