خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 515 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 515

خطبات طاہر جلد ۱۲ 515 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۳ء مقابل پر پھر دہریت کے سوا اور کوئی سہارا ان کے لئے باقی نہیں رہتا اور دہریت کو اگر بنظر غور دیکھا جائے تو دہریت کا سہار ا در اصل خدا کے بعد ایک ہی سہارا ہے جو باقی ہے۔یا تو خدا ہے یا کچھ نہیں اگر کچھ نہیں تو مادہ پرستی کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور انسان کو اپنی زندگی کے مطالب حاصل کرنے کے لئے لازم مادیت کی طرف جھکنا پڑتا ہے۔پس یہ شرک کا وہ شاخسانہ ہے جو انسان کو خالصۂ دنیا کا بنا کر رکھ دیتا ہے اور خدا سے اس کا تعلق کلیہ کٹ جاتا ہے۔اس پہلو سے آج کے خطبہ کا تعلق ان دونوں تقریبات سے بہت گہرا ہے یعنی توحید کا موضوع ہے اور ایسے ملک کے اجتماعات یا جلسے جو شرک کی آماجگاہ بنے رہے اور دہریت پر جا کر ان کی تان ٹوٹی ان ممالک کے لئے سب سے اہم ، سب سے ضروری ،سب سے زیادہ زندگی بخش پیغام تو حید ہی کا پیغام ہے اور اس کے بغیر ہماری دوسری تبلیغی کوششیں بالکل بے معنی اور بے حقیقت ہیں۔ایسے لوگ جن کا خدا سے ایمان اٹھ چکا ہو جن کا سب کچھ دنیا بن چکی ہو، ان سے آپ بائبل کی رو سے خواہ عہد نامہ قدیم ہو یا عہد نامہ جدید ہو یا دیگر الہی کتب کی رو سے بحث کریں تو یہ ایسی بات ہے جیسے بھینس کے آگے بین بجانے کا محاورہ ہے۔بھینس بیچاری کو کیا پتا کہ بین کیا ہوتی ہے۔اس لئے بہت سے احمدی ان سرسری باتوں میں جو ان قوموں کے لئے سرسری ہیں اور ہمارے لئے اہمیت رکھتی ہیں ان کے نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو ان سرسری باتوں میں اپنا سارا وقت ضائع کر دیتے ہیں اور نتیجہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا اس لئے بیماری کی صحیح تشخیص ہونی چاہئے اور بیماری کی صحیح تشخیص یہ ہے کہ تو حید دنیا سے اٹھ چکی ہے اور یہی تشخیص ہے جو اس مرض کے ہر پہلو پر صادق آ رہی ہے۔یہ مذہب کے فرق کو نہیں دیکھ رہی یہ وہ تشخیص ہے آج کل عالم پر صادق آ رہی ہے۔ہندوؤں کو دیکھیں تو وہاں سے اگر توحید کا کوئی نشان تھا تو وہ اٹھ چکا ہے یہودی بھی عملاً تو حید کو چھوڑ کر مادہ پرست ہو چکے ہیں۔مسلمانوں میں بھی کئی قسم کے شرک راہ پاگئے ہیں اور مسلمان ممالک نے اپنی بقا کو خدا کی توحید سے نہیں بلکہ دنیا کے وسائل سے اور دنیا کی مصلحتوں سے وابستہ کر دیا ہے۔یہ شرک عدلیہ میں بھی راہ پا گیا ہے اور ہر جگہ عدلیہ کی جڑیں اس شرک کی وجہ سے کھوکھلی ہوتی جارہی ہیں۔بسا اوقات عدلیہ ایک فیصلہ دیتی ہے اور فیصلہ دیتے وقت بظاہر ایسی زبان استعمال کرتی ہے جو اس فیصلے کو قانو نا کچھ معقولیت عطا کر دے لیکن پس منظر میں کچھ اور معبود ہیں جن کی پرستش کی