خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 511
خطبات طاہر جلد ۱۲ 511 خطبہ جمعہ ۲ / جولائی ۱۹۹۳ء احمدیت کے پھیلنے کے دن آرہے ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں جو بیعتیں ہوا کرتی تھیں اب لاکھوں میں تبدیل ہو رہی ہیں اور بعید نہیں۔خدا کرے کہ ایسا ہو کہ ہماری نسلیں لاکھوں سالانہ کی بجائے کروڑوں سالانہ کی تعداد میں بیعتیں دیکھنا شروع کر دیں۔اس کے لئے ہمیں تیاری کرنی ہوگی اور اس تیاری کا مرکب ، وہ سواری جس پر بیٹھ کر ہم نے یہ سفر کرنے ہیں زبانیں ہیں۔پس ان تین زبانوں کو اہمیت دیں اور پوری کوشش سے ان کو رائج کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے بہترین استعمال کی توفیق عطا فرمائے اور اس قابل بنائے کہ خدا کے کلام کو تمام دنیا میں ، جیسا کہ کلام کا حق ہے، اس طرح دنیا میں پہنچاسکیں اور سمجھا سکیں اور ان پر عمل پیرا کر اسکیں۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین آج ایک اور اعلان بھی کرنا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اب جلد جلد احمدیت کی تاریخ میں نئے سنگ ہائے میل کا اضافہ ہو رہا ہے۔آج کا اعلان یہ ہے کہ اب باقاعدہ طور پر شارٹ ویو Short Wave پر 16 میٹر بینڈ پر خطبات کو تمام دنیا میں پہنچانے کا انتظام ہو گیا ہے اور آج کا خطبہ 16 میٹر بلینڈ پر تمام افریقہ اور تمام ایشیا اور یورپ کے بہت سے حصوں میں سنا جا رہا ہے۔انگلستان اگر چہ اس کے دائرے سے ، جس دائرے سے یہ خطبہ ریڈیو تک پہنچ رہا ہے ، باہر تھا لیکن گزشتہ چند جمعوں میں جو تجرباتی دور تھا اس میں انگلستان میں بھی سنا گیا اور پوری طرح سمجھ آتا تھا اگر چه سو فی صدی اعلیٰ معیار نہیں تھا بلکہ ۸۰ فی صد کہنا چاہئے یعنی اس کی کوالٹی اس کا عمومی سماعت کا جو معیار ہے اس میں کچھ کمی آجاتی تھی لیکن اس کے باوجود سا جاتا تھا سمجھا جاتا تھا۔تو اللہ تعالی کے فضل سے اب غریبوں کے بھی سامان ہو گئے ہیں ورنہ بہت سے غریب مختلف دیہات سے مجھے لکھتے تھے کہ جن امیروں کو توفیق ہے انہوں نے انٹینے لگا لئے ہیں اور ہم حسرت سے دیکھتے رہ جاتے ہیں ہم تو سننے سے بھی محروم رہ گئے پہلے آپ کی ٹیسٹس ہی پہنچ جایا کرتی تھیں۔اب کچھ تو کریں کہ ہماری پیاس بھی مجھنے کا کچھ سامان ہو۔اللہ کی شان ہے کہ اس نے اپنی طرف سے ہی یہ انتظام کر دیا ہے کہ اب آدھی دنیا سے زیادہ میں خصوصیت سے اس دنیا میں جہاں زیادہ غریب احمدی بستے ہیں خدا کے فضل سے براہ راست ریڈیو کے ذریعے خطبات سنانے کا انتظام ہو گیا ہے انشاء اللہ وقت اور بھی زیادہ کیا جائے گا اور دیگر تربیتی مضامین کا بھی اضافہ ہوگا، زبانوں کا بھی اضافہ ہو گا۔اس کے لئے ہم تیاری کر رہے ہیں۔عربی زبان سکھانے کا ، اردو زبان سکھانے کا ان لوگوں کے لئے جن کو اردو نہیں آتی اور اسی طرح