خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 507
خطبات طاہر جلد ۱۲ 507 خطبہ جمعہ ۲ / جولائی ۱۹۹۳ء آپ پر طلوع ہو ہی نہیں سکتا۔چودہ سو سال کے فاصلے کس طرح پائے جائیں گے، کس طرح یہ فاصلے طے ہوں گے ، کیسے آخرین اولین سے ملیں گے۔وہ ملانے والا تو آج کا امام ہی ہے، وہی تو ہے جسے مہدی معہود قرار دیا گیا۔وہی تو ہے جس کے زمانے میں اولین کو آخرین سے ملانے کی پیشگوئی تھی۔اس کی زبان کو سمجھے بغیر اور ان کیفیات کو اپنائے بغیر جن سے وہ وجود گزرا ہے اولین اور آخرین کے فاصلے مٹ ہی نہیں سکتے۔پس ضروری ہے کہ اردو زبان کو سیکھ کر اردو زبان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نثر کے کلام اور نظم کے کلام کو براہ راست سمجھنے کی اہلیت پیدا کی جائے اگر کوئی ایسا کرلے گا تو دیکھے گا کہ اس کی کیفیت میں کتنا بڑا فرق پڑ چکا ہے پھر یہ لوگ ترجمے کا بھی حق ادا کر سکیں گے۔ورنہ ترجمہ در ترجمہ کا جو مضمون آج کل چل رہا ہے اس سے اصل بات تو رہتی نہیں کسی نے انگریزی میں قرآن کریم کا ترجمہ کیا تو کسی نے قرآن کریم کے انگریزی ترجمے سے نارویجئین میں کوشش کی پھر نارویجین سے کسی اور زبان میں ہو گیا اور اس طرح رفتہ رفتہ ہر نقش ثانی نقش اول کے مقابل پر دھندلا ہوتا چلا جاتا ہے۔وہ بات نہیں رہتی اس لئے اردو زبان سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کا جو انگریزی یا دوسری زبانوں میں ترجمے کا کام رکا ہوا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے ماہرین نہیں ہیں جو بیک وقت دونوں زبانوں پر مہارت رکھتے ہوں۔جو مادری زبان کی طرح اردو جانتے ہوں جو مادری زبان کی طرح انگریزی جانتے ہوں یا مادری زبان کی طرح اردو جانتے ہوں اور مادری زبان کی طرح نارویجئین جانتے ہوں وغیرہ وغیرہ جب تک ایسے ماہرین ہمارے اندر پیدا نہ ہوں جو دونوں زبانیں یکساں مہارت کے ساتھ استعمال کر سکتے ہوں اس وقت تک ترجموں کے حق ادا نہیں ہو سکتے۔جہاں تک میں نے نظر ڈالی ہے ہماری طرف سے اب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے جو ترجمے پیش ہو چکے ہیں۔ان میں بہت سے خلا باقی ہیں۔بعض دفعہ تو اعصاب شکن حد تک ترجمہ اصل مضمون سے بے وفائی کر رہا ہے۔یعنی مضمون کے معنی تو ادا ہو گئے ہوں گے لیکن ایسے بھونڈے انداز میں ترجمے ہوئے ہیں کہ اس کا بڑا غلط اثر پڑھنے والے پر پڑ سکتا ہے کہ کس نے یہ عبارت لکھی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارت میں تو کوئی مقام ایسا نہیں ہے جہاں انسان کو نیند آئے۔وہاں تو دل میں ایک خاص قسم کے جذبات موجزن ہونے لگتے ہیں۔