خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 505 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 505

خطبات طاہر جلد ۱۲ 505 خطبہ جمعہ ۲ / جولائی ۱۹۹۳ء اب رہا اردو کا معاملہ تو اردو کے سلسلے میں میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ صرف پاکستانی نژاد یعنی پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں یا ہندوستان میں پیدا ہونے والے بچوں ہی کا کام نہیں کہ وہ اردو سیکھیں بلکہ تمام نو مسلم احمدیوں کا اگر فرض نہیں تو ان کا فائدہ اسی میں ہے کہ وہ اردو زبان براہ راست سیکھیں ، اردو زبان میں بہت سے ایسے مطالب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں ملتے ہیں جو ترجمے میں ضائع ہو جاتے ہیں اور انسان جب ترجمہ کی کوشش کرتا ہے تو بڑی حسرت سے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک نظم ہے: کس قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا ( در مشین : ۱۰) اس نظم سے متعلق میں آج کچھ کہنا چاہتا تھا مگر اب وقت نہیں ہے لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سلسلے کے انگریزی کے مختلف ماہروں کو یہ نظم دی گئی کہ وہ اس کا ترجمہ کریں اور وہ جن کو بجا فخر تھا کہ ان کو انگریزی زبان پر خوب دسترس حاصل ہے اور شاعرانہ مزاج بھی تھا اور اردوزبان بھی سمجھتے تھے انہوں نے بھی جو ترجمے کر کے بھیجے اس سے اندازہ ہوا کہ ترجمہ کرنے کا کام کتنا مشکل ہے اور بعض اعلیٰ عارفانہ مضامین کو ایک زبان سے دوسری زبان میں حقیقت میں منتقل کیا ہی نہیں جاسکتا اس کا لطف اٹھانے کے لئے وہ زبان سیکھنی ضروری ہے چنانچہ پروفیسر آر۔بری جو کیمبرج میں عربی کے بڑے مشہور پروفیسر تھے نے جب قرآن کریم کا ترجمہ کیا تو وہ اس ترجمے کے آغاز میں تمہید میں یہ لکھتے ہیں کہ مجھے اس ترجمے کا خیال اس لئے آیا کہ گزشتہ جتنے ترجمے دیکھے ہیں ان میں ایک بات محسوس کی کہ ترجمہ کرنے والے نے بڑی محنت سے اور کوشش سے قرآن کریم کے مضمون کو اپنی زبان میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہر کوشش بالآخر اتنی بھدی ثابت ہوئی کہ اس کو دیکھ کر ایک قاری قرآن کی عظمت کا تصور کر ہی نہیں سکتا۔جتنا قرآن کریم کی اصل عبارت دل پر اثر ڈالتی ہے۔کوئی ترجمہ اس کا سوواں حصہ بھی دل پر اثر نہیں ڈالتا اور وجہ یہ ہے کہ جب لفظی طور پر وفا کی جائے اور زیادہ کوشش کر کے اس مضمون کو اپنی زبان میں منتقل کرنے کی کوشش کی جائے تو زبانوں کے انداز مختلف ہونے کی وجہ سے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ ترجمہ بھی منتقل ہو جائے اور زبان کا حسن بھی منتقل ہو جائے۔پس وہ کہتے ہیں اس پہلو سے میں نے یہ کوشش کی ہے کہ قرآن کریم کے حسن کا ترجمہ کروں۔یعنی ایسی