خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 498 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 498

خطبات طاہر جلد ۱۲ 498 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۳ء محاورہ پیدا ہو۔پس اگر ایک لمبے عرصے تک یعنی پختگی کی عمر تک کسی زبان میں بول چال کا محاورہ پیدا نہ ہو تو ایک ایسی جھجک بیٹھ جاتی ہے کہ اس کے بعد سیکھنا پھر مشکل ہو جاتا ہے۔اگر چہ میرے لئے مشکل تو نہیں لیکن اب وقت کی مشکل ہے اور جتنا وقت اور بیجہتی زبان سیکھنے کے لئے درکار ہے اب وہ حاصل نہیں ہے۔اس لئے میں افسوس کرتا ہوں کہ کیوں بچپن کے زمانے میں مجھے کسی نے ایسی پاکیزہ اور اعلیٰ زبان جو الہامی زبان ہے اس حد تک نہ سکھائی کہ میں بے تکلفی سے اپنے مافی الضمیر کو اس میں ادا کر سکوں لیکن جو آپ کے بچے ہیں آپ کی چھوٹی نسلیں ہیں ان کی صلاحیتوں کو اب ضائع نہ ہونے دیں ان سے بھر پور استفادہ کی کوشش کریں کیونکہ چھوٹے بچے خدا تعالیٰ کے فضل سے بغیر کسی کوشش کے، بغیر ذہن پر بوجھ ڈالے بیک وقت پانچ چھ زبانیں سیکھ سکتے ہیں اور بعض ماں باپ کو یہ وہم ہے کہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ زبانیں سکھانا بچوں پر ظلم اور زیادتی ہے وہ نہیں سیکھ سکیں گے۔سائنسدانوں نے اس موضوع پر جو تحقیقات کی ہیں وہ اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی ذہن بچپن میں اتنی بڑی صلاحیت رکھتا ہے کہ اسے بیک وقت چھ یا اس سے بھی زائد زبا نہیں سکھائی جائیں تو بغیر بوجھ ڈالے فرفروہ اپنی مادری زبان کی طرح ان زبانوں کو بول سکتا ہے۔پس پہلی نصیحت تو مغربی دنیا میں بسنے والے احمدیوں کو خصوصاً اور باقی احمد یوں کو بھی یہی ہے کہ عربی زبان کی طرف توجہ کریں اور مغربی دنیا میں یہ سہولتیں موجود ہیں کہ ان کا نظام تعلیم چونکہ بہت ترقی یافتہ ہے اس لئے کم و بیش ہر ملک میں عربی زبان سکھانے کا انتظام ضرور موجود ہوگا۔اگر نہیں تو پھر کیسٹس کے ذریعے استفادہ کیا جا سکتا ہے لیکن کیسٹس کی بھی ضرورت نہیں ہر ایسا ملک جو مغربی دائرے میں ہے وہاں کثرت کے ساتھ عرب آباد ہو چکے ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا ملک ہوگا جہاں جماعت احمد یہ قائم ہے اور کوئی عرب احمدی وہاں نہ ہوں یا عربوں میں سے احمدیوں کے اتنے دوست نہ ہوں کہ جو دن بدن جماعت میں زیادہ دلچسپی نہ لے رہے ہوں اور اس بات کے لئے تیار نہ ہوں کہ وہ زبان سکھانے میں جماعت کی تنظیموں کی مدد کریں۔پس ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہئے جس میں لجنہ بھی شامل ہو، انصار اللہ بھی شامل ہو، خدام الاحمدیہ بھی شامل ہو اور وہ اپنی چھوٹی نسلوں کی زبانوں کی تربیت کی طرف خصوصیت سے توجہ دیں اور اس میں اولیت عربی کو ہو کیونکہ عربی زبان کے سمجھے بغیر قرآن کریم کا ابتدائی فہم بھی ممکن نہیں