خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 495 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 495

خطبات طاہر جلد ۱۲ 495 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۳ء مناسبت رکھتی ہیں مثلاً کسی جانور کے منہ سے خوشی کے وقت جو بے اختیار آواز نکلتی ہے وہ غم کے وقت کی آواز سے مختلف ہے، فکر اور درد کی آواز سے مختلف ہے اور خوف کی آواز سے مختلف ہے۔چنانچہ سائنسدانوں نے اس مضمون پر تحقیق کے بعد بعض فائدہ مند چیزیں بھی دریافت کی ہیں۔مثلاً بعض ہوائی اڈوں پر یہ مشکل در پیش تھی کہ وہاں سیگلر بڑی کثرت سے آسکے بیٹھتی تھیں اور ہوائی جہاز کے شور سے جب وہ اڑتی تھیں تو بعض دفعہ بہت بڑے بڑے حادثے ہو گئے کیونکہ بڑی تعداد میں جب انجن سے ٹکراتی تھیں تو خود پارہ پارہ ہوتی تھیں اور انجن کو بھی نقصان پہنچاتی تھیں تو پھر انہوں نے سیگلز کی وہ آواز معلوم کی جو وہ خوف کی حالت میں نکالتی ہے اور اس آواز کو ریکارڈ کیا اور پھر لاوڈ سپیکر، پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعے بہت وسیع پیمانے پر ان ائیر پورٹس پر اس آواز کے ریکارڈ کو بار بار چلایا گیا اور جب وہ ریکارڈ چلایا جاتا تھا تو بے اختیار خوف سے چیچنیں مارتی ہوئی سیگلز وہاں سے اڑ کے چلی جایا کرتی تھیں۔یہاں تک کہ ان کے لئے اس جگہ پر بیٹھنا ممکن نہ رہا۔حقیقت تو یہ ہے کہ سب زبانیں خدا نے ہی سکھائی ہیں بعض زبانیں کمپیوٹر کی طرح دماغ میں داخل کر کے نقش کر دی گئی ہیں۔ان میں ترقی کی بھی کوئی گنجائش نہیں اور تبدیلی کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔جب سے کسی جانور کی تخلیق ہوئی ہے اس وقت سے وہ وہی زبان استعمال کر رہا ہے اور ہر خطہ ارض میں وہی زبان بولتا ہے لیکن کچھ زبانیں ہیں جو انسان کو عطا ہوئی ہیں ان زبانوں کا ہم جمع کی صورت میں ذکر کرتے ہیں زبانیں لیکن قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ ایک زبان ہی خدا نے سکھائی تھی اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن اور الہامات کی روشنی میں جو مضمون من الرحمن میں بیان فرمایا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ پہلی زبان جو انسان کو سکھائی گئی وہ عربی تھی قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ ) عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (الرحمن ۲ تا ۵) خداہی وہ رحمن خدا ہے جس نے قرآن سکھایا۔خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ اس نے انسان کو پیدا فرمایا اور پھر اسے بیان سکھایا۔بیان کے اور معانی بھی ہیں لیکن پہلا معنی قوت بیانیہ ہے۔اسے اپنے عندیہ کو ، اپنے مضمون کو دوسرے تک پہنچانے کی قدرت عطا فرمائی اور اس قدرت کو ایسا عام فرما دیا کہ ہر انسان میں یہ قدرت ہے کہ اپنے مافی الضمیر کو بیان کر سکے اور دوسرے کے بیان کو سنے اور سمجھ سکے۔اس کا تعلق قرآن کریم سے ہے اور اتنا گہرا تعلق ہے کہ