خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 482 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 482

خطبات طاہر جلد ۱۲ 482 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۹۳ء ہے جس کی تاریخیں 27-26-25 جون مقرر کی گئی ہیں اگر چہ یہاں اس وقت اڑھائی بجے ہیں لیکن امریکہ میں ابھی صبح کا وقت ہو گا۔یہ جمعہ براہ راست تو ٹیلی کاسٹ نہیں کیا جا سکتا لیکن بعد میں انشاء اللہ کسی وقت جب سفر کے دوران جمعہ ٹیلی کاسٹ نہ ہوا تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ جمعہ دنیا میں ہر جگہ ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا۔اس لئے میں براہ راست ٹیلی کاسٹ پیغام کے ذریعہ تو ان تک نہیں پہنچ سکتا لیکن ہم نے یہ انتظام کیا ہے کہ امریکہ سے تعلق رکھنے والا پیغام ٹیلی فون کے ذریعہ ان تک پہنچا دیا جائے گا کیونکہ جب تک وہاں جمعہ شروع ہو گا اس وقت تک ہم انشاء اللہ تعالیٰ وہاں یہ پیغام ریکارڈ کروادیں گے۔امریکہ کی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مسلسل ترقی کر رہی ہے اگر چہ ترقی کی رفتار ابھی سست ہے اور جیسا کہ مجھے امریکہ کی جماعت سے توقع تھی ویسی ترقی کے آثار ابھی پوری طرح ظاہر نہیں ہوئے۔جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے خدا کے فضل سے گزشتہ چند سالوں میں نمایاں اضافہ ہے۔اس پہلو سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ روحانی ترقی بھی ضرور ہورہی ہوگی کیونکہ جماعت میں مالی قربانی کا ایک گہرا تعلق جذبہ ایمانی سے ہے۔کوئی اور وجہ نہیں کہ کوئی انسان اپنی محنت کی کمائی ہوئی دولت کو اس طرح دین کے لئے قربان کرے جب تک کہ اللہ کی محبت دل میں نہ ہو ، جب تک دین کے ساتھ ایک گہرا تعلق قائم نہ ہو اور خدمت دین کا جذبہ پیدا نہ ہو انسان کی جیب سے اپنی محنت کے کمائے ہوئے پیسے آسانی سے نہیں نکلا کرتے۔پس یہ ایک پیمانہ ہے لیکن اس پیمانہ کے پیچھے پیچھے اس روح کی تازگی کے آثار بھی تو ظاہر ہونے چاہئیں یعنی ایمانی لحاظ سے،عبادتوں کے لحاظ سے ،خدمت دین اور خدمت خلق کے لحاظ سے امریکہ کی جماعت میں ایک نمایاں ترقی کے آثار دکھائی دینے چاہئیں۔ان کی ایک دوسری علامت ہے اور وہ یہ ہے کہ جو وجود صحت مند ہو وہ نشو و نما ضرور پاتا ہے۔مالی لحاظ سے قربانی ایک پہلا قدم ہے جس سے خوش آئند مستقبل کی امید پیدا ہوتی ہے۔لیکن اپنی ذات میں یہ کوئی بڑا مقصد نہیں ہے۔ایک ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک ذریعہ مہیا کرنے والی بات ہے۔اصل چیز تو تقویٰ ہے۔اللہ کی محبت، عبادتوں میں ترقی کرنا ہے ، خدمت دین میں آگے بڑھنا، اپنے وقت کو قربان کرنا اور اللہ کے فضل اور رحم کے ساتھ نشو و نما پانا یہ وہ پہلو ہیں جن میں میں