خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 479
خطبات طاہر جلد ۱۲ 479 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۹۳ء (Fransisko Negari) تھا۔یہ 1664ء میں آیا ہے۔پھر ایک فرانسیسی شہزادہ یہ پرنس لوئی (Prince Lui Philip) جو اور لنیز کا شہزادہ تھا۔یہ 1795ء میں یہاں آیا۔پھر 12 جولائی 1873ء کو ناروے کا بادشاہ پہلی بار یہاں آیا اس کا نام آسکر ثانی تھا۔پھر 1890ء میں پہلی بار یہ علاقہ سیاحوں کے لئے کھولا گیا ہے اور 1907ء میں سیام کا ایک بادشاہ کنگ چولونگ کلون Kingchu Long Klungo) یہاں آیا اور اس طرح یہ وہ لوگ ہیں جن کی تاریخ یہاں محفوظ کی گئی ہے۔آج ہم بھی ایک تاریخ بنا رہے ہیں اس تاریخ کی زمین والوں کی نظر میں آج کوئی بھی اہمیت نہیں کوئی قدر نہیں لیکن میں آپ کو بتا تا ہوں کہ کچھ تاریخیں ایسی ہیں جوز مین پر نہیں مگر آسمان پر محفوظ کی جاتی ہیں۔ان تاریخوں میں سے اگر آپ دیکھیں تو بڑے بڑے انبیاء کی تاریخیں ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک تاریخ بنائی اور اس زمانہ میں زمین پر جو چیزیں بھی تاریخ کی صورت میں کندہ ہوئیں ان میں موسیٰ علیہ السلام کا نام آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گا۔پھر حضرت عیسیٰ ملیہ السلام نے بھی ایک تاریخ بنائی اور اس زمانہ میں زمین کے بادشاہوں نے جو تاریخ اپنی کتابوں یا لوحوں پر رقم کی اس تاریخ میں حضرت عیسی علیہ السلام کا کوئی نام ونشان ، کوئی ذکر آپ کو نہیں ملے گا۔پھر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے تمام زمانے کی تاریخ بنائی تمام انسانیت کی تاریخ کا آغاز کیا اور اس زمانہ کے بادشاہوں کے لوح و قلم نے اس تاریخ کو بھی بالکل نظر انداز کر دیا لیکن یہ وہ تاریخیں ہیں جو آسمان پر لکھی گئیں اور یاد رکھیں کہ جو تاریخیں آسمان پرلکھی جاتی ہیں وہ ضرور زمین پر اُتاری جاتی ہیں یہاں تک کہ زمین کی تاریخوں پر غلبہ پا جاتی ہیں اور زمین کی تاریخوں کی سیاہیاں مدہم پڑنے لگتی ہیں یہاں تک کہ وہ تاریک اور مبہم ہو کر نظروں سے غائب ہونے لگتی ہیں اور دنیا کی تاریخ پر وہی تاریخ غالب آتی ہے جو آسمان پرلکھی جائے۔پس دیکھو کہ آج حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کی تاریخ ان تمام فراعنہ مصر کی تاریخ پر غالب آ گئی ہے۔جو اپنے زمانہ کے بڑے بڑے جابر بادشاہ تھے جنہوں نے اتنا بھی ضروری نہ سمجھا کہ اپنے تذکروں میں کہیں موسیٰ علیہ السلام کا نام ہی لکھ چھوڑیں۔پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ دیکھیں۔آپ کے بعد ۳۴ سال تک عیسائیت کا ذکر تک بھی کسی مؤرخ کے ہاں نہیں ملتا لیکن جب