خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 476
خطبات طاہر جلد ۱۲ 476 خطبه جمعه ۲۵ / جون ۱۹۹۳ء گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے تھے اور اب بریڈ فورڈ میں آباد ہیں۔پھر کلیم خاور صاحب ہیں جو ہمارے رشین ڈیسک کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے روسی زبان میں مہارت حاصل کی لیکن اس سفر میں روسی زبان سے تو ہم استفادہ نہیں کر سکے لیکن ان کی کھانا پکانے کی صلاحیتوں سے ہم نے فائدہ اٹھایا ہے اور قافلہ کے بعض ممبروں کا خیال ہے کہ روسی زبان سے بہتر یہ کھانا پکانا جانتے ہیں۔خدا کرے ان کی روسی بھی بہتر ہو جائے اور کھانے سے بھی آگے نکل جائے۔پھر مبارک احمد صاحب ظفر ہیں جو وکالت مال لندن سے تعلق رکھتے ہیں ، پھر ہمارے ہادی علی صاحب چوہدری ہیں جو ایڈیشنل وکیل التبشیر ہیں۔پھر میجر محمود احمد صاحب ہیں جو چیف سیکورٹی آفیسر ہیں اور ملک اشفاق احمد صاحب ہیں جوان کے ساتھ ان کے نائب کے طور پر سیکیورٹی آفیسر ہیں۔اس قافلے کا ایک حصہ وہ ہے جو اوسلو سے اس قافلہ میں شامل ہونے کے لئے آیا اور ان کے سر براہ رشید احمد صاحب چوہدری ہیں جو چوہدری غلام حسین اوور سیئر مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔دوسرے مظفر احمد چوہدری ہیں جو ان کے صاحبزادے ہیں اور تیسرے مرزا محمد اشرف علی صاحب ہیں جو مکرم محمد فاضل صاحب آف کوئٹہ کے صاحبزادے ہیں۔یہ تین حضرات دوکارمیں لے کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے اور اس سارے سفر کو کامیاب بنانے کا سب سے بڑا سہرا اگر انسانوں میں سے کسی کے سر پر رکھا جا سکتا ہے تو رشید احمد صاحب چوہدری کے سر پر ہے۔انہوں نے لمبے عرصہ کی تیاری کے بعد یہ انتظام کیا ہے۔دو تین سال محنت کی ہے۔سارے رستوں کا معائنہ کیا جگہوں کا جائزہ لیا۔پھر یہ کہ کونسی جگہ بہترین ہوگی کتنے فاصلہ پر ہمیں کیمپ کرنا چاہئے اور پھر یہ کہ کتنا کھانا ساتھ لے کر پھر نا ہو گا اور کن کن چیزوں کی ، کن برتنوں کی ضرورت ہوگی یہاں تک کہ مچھلی پکڑنے کا سامان بھی ساتھ لے کر چلے ہیں۔دوکاروں میں تین آدمی اس لئے آئے ہیں کہ دراصل تین کی گنجائش بھی مشکل سے تھی۔وہ دونوں کا رمیں سامان سے لبالب بھری ہوئی تھیں اور ایک کار میں تو یہ اتنا سٹور پیک کر کے ساتھ لائے ہیں کہ ہمارے قافلے والے اس کو مزاح کے ساتھ Depak کہتے ہیں۔دیپک انگلستان میں ایک Grocery سٹور ہے جو بہت بڑا ہے۔تو وہ کہتے ہیں کہ ایک چھوٹا سا - Depak سٹور ہمارے ساتھ پھر رہا ہے۔امید ہے اب تک اس کا کچھ وزن کم ہو گیا ہو گا لیکن جاتے جاتے انشاء اللہ جس طرح اب ہمارے قافلے کے بعض لوگ کھانے کا حق ادا کر رہے ہیں امید ہے کہ