خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 475
خطبات طاہر جلد ۱۲ 475 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۹۳ء بھی شکر کیا جائے کم ہے۔اس پہلو سے کہ یہ ایک تاریخی حیثیت کا جمعہ ہے میں اس میں شمولیت کرنے والوں کے نام پڑھ کر سناتا ہوں تا کہ تاریخ میں وہ نام ریکارڈ ہو جائیں۔جہاں تک میرے ذاتی خاندان کا اور تعلق والوں کا ذکر ہے ، میرے علاوہ اس جمعہ میں میری بیٹی فائزہ بھی شامل ہے جن کے میاں عزیزم لقمان احمد جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث" کے صاحبزادے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں۔اسی طرح میری تیسرے نمبر کی بیٹی عزیزہ یاسمین رحمان مونا بھی اس جمعہ میں شامل ہیں اور ان کے میاں کریم اسد احمد خان بھی اس جمعہ میں شریک ہیں۔اسی طرح میری چوتھی بیٹی عطیۃ الحبیب طوبی بھی ہمارے ساتھ جمعہ ادا کر رہی ہیں۔عزیزم لقمان اور فائزہ کے تین بچے عثمان احمد اور نداء النصر اور عدنان احمد ( جو وہاں سامنے لیٹا ہوا ہے۔امید ہے جمعہ کی نماز کے وقت وہ اٹھ کر شامل ہو جائے گا) بھی اس میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ میری پانچویں بیٹی سعدیہ نعیم جو چوہدری شاہنواز صاحب کی نواسی ہے۔جن کا ذکر میں نے جلسہ سالانہ قادیان میں ان کے نکاح کے موقع پر بھی کیا تھا، یہ بھی ساتھ شامل ہیں۔یہ تو ہمارے گھر کے افراد ہوئے اور باقی بھی سب گھر ہی کے افراد ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں در حقیقت ایک ہی خاندان کی لڑیوں میں پرو دیا ہے اور ایسے اخوہ بنا دیا ہے کہ اس کی کوئی دنیاوی مثال دکھائی نہیں دیتی اور حقیقت میں ساری جماعت احمد یہ عالمگیر اس وقت اخوت کی ایسی لڑیوں میں پروئی گئی ہے کہ خاندانی تعلقات میں بھی ایسی محبت، ایسے خلوص کی کوئی مثال دکھائی دیتی ہے تو کم دکھائی دیتی ہے۔ان میں میرا وہ قافلہ ہے جو میرے ساتھ سفر کیا کرتا ہے۔اس میں کچھ دفتر کا عملہ ہے۔کچھ تبشیر کا ، کچھ سیکورٹی کا سٹاف ہے، ان میں پہلے تو عزیزم نبیل خالد ارشد ہیں جو ہمیشہ سفروں میں میرے ساتھ میری گاڑی کی ڈرائیونگ کے فرائض سرانجام دینے کے لئے اپنا وقت وقف کرتے ہیں اور بہت ہی خلوص اور محبت کے ساتھ ایک لمبے عرصہ سے یہ فریضہ ادا کر رہے ہیں۔کبھی کبھی کسی اور کو بھی موقع ملتا ہے لیکن اکثر ان کی خواہش یہی ہے کہ ہمیشہ یہی میری کار کی ڈرائیونگ کے فرائض سرانجام دیں۔یہ عبدالباقی ارشد صاحب کے صاحبزادہ ہیں جن کو انگلینڈ کی جماعت میں ارشد باقی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔دوسرے ہمارے ساتھ محمد اختر امینی صاحب ہیں جو رضا کارانہ طور پر اپنی کار لے کر اس قافلہ میں شامل ہوئے۔ان کے والد صاحب کا نام رحمت علی امینی ہے جو پہلے