خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 469
خطبات طاہر جلد ۱۲ 469 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۹۳ء بھی بعینہ یہ مضمون صادق آتا ہے۔یہ پس آج ہم اس سفر میں گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہر امکانی ضرورت کا چودہ سو سال پہلے سے خیال رکھا تھا اور ہم ایک ادنی سا بھی تر د داس بات میں محسوس نہیں کر رہے کہ جمعہ کا وقت آ گیا ہے، کیسے جمعہ ادا کریں، کہاں مسجد کی تلاش کریں ، پانی پوری طرح میسر نہ آئے تو کیا کیا جائے۔ہر امکان کو اسلام نے پوری طرح پہلے سے پیش نظر رکھ کر اُس کی ضروریات کو پورا فرما رکھا ہے۔اس کو کہتے ہیں کامل مذہب ، اسی کا نام آخری مذہب ہے۔کوئی آخری قابل تعریف نہیں جب تک کہ وہ کامل نہ ہو اور انہی معنوں میں حضرت اقدس محمد مصطفی سے آخریت کے درجہ کمال تک پہنچے کیونکہ حسن و جمال میں درجہ کمال تک پہنچ گئے تھے۔اس لئے کہ حسن میں آپ ﷺ سے اوپر درجہ متصور نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے حسن خلق میں اور حسن سیرت میں اور حسن کردار میں اس سے اوپر کا کوئی مضمون انسانی ذہن میں آہی نہیں سکتا تھا۔آخری حدوں کو آپ میں نے چھوا ہے اس لئے آپ میر صلى الله آخری ٹھہرائے گئے اور ان معنوں میں یہ آخری ہونا قابل تعریف ہے۔خدا کرے کہ ہم ان معنوں میں حضرت محمدمصطفی ﷺ کی امت کا وہ آخری حصہ بن جائیں جن کو اخرین کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے آخرین کی ایک یہ تعریف فرمائی ہے کہ یا درکھو کہ تم خدا تعالیٰ کی وہ آخری جماعت ہو جس نے یہ یہ ظیم الشان کام کرنے ہیں یہاں زمانے کے لحاظ سے آخری ہونا نہ پیش نظر تھا، نہ کوئی معنی رکھتا ہے۔مراد یہ ہے کہ تم وہ آخری جماعت ہو جس نے بنی نوع انسان کو اپنے مراتب اور اپنے کمالات کے لحاظ سے آخری مقام تک پہنچانا ہے اگر تم ایسا کرو گے تو حضرت محمد مصطفی مہینے کی آخریت کی غلامی کا حق ادا کرو گے۔اگر اس میں ناکام رہے تو حضرت محمد مصطفی ملے تو پہلے بھی آخر تھے اور آخر تک آخر ہی رہیں گے۔ہمیں پوری طرح آپ کی غلامی کی طرف منسوب ہونے کا جو حق وہ میسر نہیں آئے گا۔خدا کرے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ہم اللہ تعالیٰ کی وہ آخری جماعت ثابت ہوں جو آخری نبی کے شایان شان بنے۔آپ کے قدموں کے ساتھ وابستہ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)