خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 468
خطبات طاہر جلد ۱۲ 468 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۹۳ء کو جنگل میں وقت کا نا پڑتا تھا دور ونزدیک کوئی انسان دکھائی نہیں دیتا تھا۔اس کے دل میں بھی خیال پیدا ہوا کہ میں بھی باجماعت نماز پڑھوں۔اُس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں کیا کرسکتا ہوں میرے لئے کیا حکم ہے۔بارہا جنگل میں دور بیابان میں مجھے نماز کا وقت آ جاتا ہے اور کوئی دور ونزدیک مجھے انسان دکھائی نہیں دیتا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہاں تمہاری نماز بھی با جماعت ہو سکتی ہے تم اذان دو۔اذان کی آواز سن کر کوئی دور سے جاتا ہوا مسافر تمہارے پاس آ جائے تو سمجھو کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں باجماعت نماز کرنے کے لئے تمہارا ساتھی بھیج دیا ہے اور اگر تمہاری اذان کے باوجود کوئی نہ آئے تب بھی تم تکبیر کہہ کر امامت کرواؤ اور خدا آسمان سے فرشتے اتارے گا اور وہ تمہارے ساتھ شامل ہوں گے اور تمہاری نماز با جماعت ہو جائے گی۔اس سے زیادہ کامل تعلیم دنیا میں متصور ہو ہی نہیں سکتی۔تصور کو دنیا کے سب امکانی گوشوں میں دوڑا کے دیکھ لیں اپنے تخیل کی پرواز کو ہر امکان کا پہلو دکھا دیجئے اور اڑتے ہوئے آپ کا تصور ہر طرف امکان کی دنیا میں پر مارے اور تلاش کرے کہ کوئی ایسی جگہ ہو جس جگہ اسلام کی نظر نہ پہنچی ہو۔وہ نظر تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی مگر دیکھے گی کہ اسلام کی نظر ہر مقام پر پہنچی ہوگی۔اس لئے یہی مذہب کامل ہے اور کامل ہونے کی وجہ سے ہر زمانے کے لئے اور تمام انسانوں کے لئے ہے یہی وہ مضمون ہے جس کو خدا تعالیٰ کی کامل تخلیق کے رنگ میں دنیا میں جو نظام پیدا فرمایا ہے۔اُس کی مثال کے طور پر قرآن کریم بیان فرماتا ہے، فرماتا ہے کہ تو اپنی نظر کو دوڑا کے دیکھ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ (الملک : ۵) فتور دیکھنے کے لئے اپنی نظر کو دوڑاؤ ، زمین و آسمان پر نگاہ ڈالو۔کوشش کرو کہ کوئی ایک چھوٹا سا نقطہ بھی ایسا دکھائی نہ دے جہاں کوئی خلا رہ گیا ہو۔جہاں تخلیق میں کوئی ادنی سی بھی کمزوری پائی جاتی ہو۔فرمایا تم ایسا نہیں کر سکو گے۔پھر فرمایا دوبارہ نظر دوڑاؤ، ایک دفعہ پھر کوشش کر لو از جعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ دوباره دوڑ او يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرو تیری طرف تھکی ماندی ہتھکی ہاری نظر واپس لوٹ آئے گی اور اُسے کوئی کمزوری، کوئی خلا دکھائی نہ دے گا۔اس مضمون کا تعلق صرف ظاہری کائنات سے نہیں ہے بلکہ اُس روحانی کامل کا ئنات سے بھی ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ پر بطور اسلام نازل فرمائی گئی جو قرآن کے ذریعے ہمارے سامنے پیش فرمائی گئی ہے۔اس روحانی کائنات پر