خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 467 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 467

خطبات طاہر جلد ۱۲ 467 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۹۳ء موجود ہے۔پھر مرد کی پاکیزگی اور عورت کی پاکیزگی مختلف حالتوں کی پاکیزگی، کنواروں کی پاکیزگی اور شادی شدہ لوگوں کی پاکیزگی۔ایک عبادت کے تعلق میں مختلف لوازمات پر نظر ڈال کر دیکھ لیں ، تمام مذاہب پر نگاہ ڈالیں کہیں آپ کو اسلام کا عشر عشیر بھی ان کی تعلیم میں دکھائی نہیں دے گا۔وہ مضمون ہی موجود نہیں ہے۔ایک آدمی بیمار ہو جائے تو کیا کرے۔ایک آدمی کو گر جایا مندر یا کلیسا میسر نہ ہو تو اُسے کیا کرنا چاہئے۔اسلام کی تعلیم اتنی وسیع ہے، اتنی عظیم الشان ہے کہ حضر وسفر کے تمام معاملات کے ہر پہلو پر نظر رکھتی ہے اور یہ بھی بیان کرتی ہے کہ اگر مسجد میسر نہ آئے تو تم کیا کرو۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کواللہ تعالی نے جو غیر معمولی شرف عطا فرمائے۔اُن کا آپ نے مختلف وقتوں میں ذکر فرمایا۔اُن میں سے ایک شرف آپ نے یہ بتایا خدا تعالیٰ نے میرے لئے اور میری امت کے لئے ساری زمین کو مسجد بنا دیا ہے؟ (مسلم کتاب المساجد حدیث نمبر : ۸۱۰ ) کوئی ایک بھی انسان نہیں ہے جو مسجد سے محروم رہ جائے اور ہم یہاں بیٹھے ناروے کی سرزمین پر ایک خوبصورت نالے کے قریب یا کیمپ میں جمعہ پڑھ رہے ہیں اس کی سند کیا ہے؟ یہ وہی سند ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے ورنہ دوسرے مذاہب میں تو اس کا کوئی ذکر ، کوئی اشارہ تک آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔سفر میں عبادت کرنے کا ہی کوئی تصور نہیں کجا یہ کہ ساری زمین تمہارے لئے خدا کے حکم سے مسجد بنادی گئی ہے۔اب یہ مسجد ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے زمین کے چپے چپے پر بنا رکھی ہے اور جہاں کہیں بھی اجتماعی عبادت کا وقت آئے گا وہیں مسجد کا تصور پیدا ہوگا۔وہیں ہم سب مل کر اجتماعی عبادت کر سکتے ہیں۔پھر اجتماعی عبادت اور انفرادی عبادت کے فرق جس تفصیل سے اسلام نے بیان فرمائے ہیں۔اُن کا کوئی ذکر اذکار کسی اور مذہب میں دکھائی نہیں دیتا اور حیرت انگیز تفصیل سے مختلف امکانات پر بحث فرمائی گئی ہے۔جہاں نماز با جماعت پر زور ہے۔مسجد تو بن گئی کیونکہ زمین کا چپہ چپہ مسجد بنا دیا گیا ہے۔نمازی کہاں سے اکٹھے کرو گے۔اگر با جماعت نماز پڑھنی ہے تو نمازی کہاں سے صلى الله لاؤ گے۔یہ سوال ہے جو پیدا ہوتا ہے یہ بھی اٹھایا گیا ہے۔آنحضور ﷺ نے جب نماز با جماعت پر زورد یا تو ایک بدوی نے جو گڈریا تھا جو بھیڑیں چراتا تھا اور اکثر اس صورت میں بعض دفعہ دنوں اُس