خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 463 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 463

خطبات طاہر جلد ۱۲ 463 طور پر صادق آتا ہے۔تو لفظ دُہائی کا یہ بہت پیارا استعمال ہے۔فرمایا۔وو خطبہ جمعہ اارجون ۱۹۹۳ء۔۔۔تیری دہائی اب آسمان پر پہنچ گئی ہے۔اب میں اگر تجھے کوئی ( تذکره صفحه : ۳۲۷۳۲۶) امید اور بشارت دوں تو تعجب مت کر۔میری سنت اور موہبت کے خلاف نہیں۔بعد گیارہ انشاء اللہ۔۔۔“ فرمایا اس کی تفہیم نہیں ہوئی تو ایک دفعہ امید ظاہر فرمائی ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں گے لیکن ساتھ ایک اور دروازہ یہ فرما کر کھول دیا کہ اس کی تفہیم نہیں ہوئی یعنی جو معنی میں بیان کرتا ہوں میں اپنی امید اور توقع کے مطابق بیان کر رہا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے معین تفہیم نہیں ہوئی۔پس جب خدا نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے تو کیوں نہ ہم توقع رکھیں کہ اس دور میں بھی خدا اس الہام کو اس شان کے ساتھ پورا کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے کل عالم میں، چہار دانگ عالم میں ڈنکے بجنے لگیں۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ہم اپنے کانوں سے ان تصدیق کی آوازوں کو سنیں، اپنی آنکھوں سے اس دور ظفر موج کو دیکھیں اور ہماری آنکھیں بھی ٹھنڈک پائیں اور دل بھی شاداں ہوں۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہوا اور جلد تر ہو۔(آمین)