خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 459
خطبات طاہر جلد ۱۲ 459 خطبه جمعه ۱۱رجون ۱۹۹۳ء کا ذب ہے۔۔۔“ 66 یہ جو ابتلاء آتے ہیں تو ان کے ساتھ کچھ خشک پتے جھڑ جاتے ہیں کچھ خشک ٹہنیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور جلائی جاتی ہیں لیکن جو کچھ بچتا ہے وہ مزید نشو و نما پاتا ہے اور حیرت انگیز طریق پر پھولتا اور پھلتا ہے اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔ پس بد نصیب ہیں وہ جو دور ابتلاء میں گر جائیں اور بہار کا زمانہ نہ دیکھیں۔ فرماتے ہیں : وو ۔۔۔ وہ جو کسی ابتلا سے لغزش کھائے گا کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بدبختی اس کو جہنم تک پہنچائے گی اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا تھا مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے۔۔۔“ اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا بھر کی جماعتیں شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ دور ابتلاء میں لمبے صبر کے نمونے دکھائے۔ کچھ براہ راست تکلیفوں میں مبتلا کئے گئے۔ کچھ اپنے پیاروں کی تکلیفوں میں مبتلا ہوئے ان سب کے لئے خوشخبری ہے۔ فرماتے ہیں۔ وو ۔۔۔ مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قو میں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی ۔ وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے۔“ الوصیت ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه : ۳۰۹) پر وہ دوسرا دور ہے جس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ داخل ہو چکی ہے اگر چہ اس عرصہ میں کبھی بھی جماعت احمد یہ پر برکتوں کے دروازے بند نہیں ہوئے بلکہ جس تیزی کے ساتھ برکتوں کے نئے نئے ابواب کھل رہے ہیں ۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر برکتوں کے نزول کے لئے ہر روز نئے دروازے کھولے جا رہے ہیں اور ڈھیروں برکتیں پھینکی جارہی ہیں۔ یہ وہ دور ہے جس میں بعض دفعہ یوں لگتا ہے کہ برکتیں سنبھالی نہیں جائیں گی ۔ وہ لوگ جو باغوں کا تجربہ رکھتے ہیں ۔ ان کو پتا ہے۔ ایک زمانہ ہوتا ہے کہ انتظار ہی ہوتا ہے اور کبھی کھٹا پھل بھی ہاتھ آجائے تو انسان اس کو دیکھ راکھ کر چکھ کر کچھ لطف اٹھاتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ ٹیکہ لگے اور کبھی کوئی پکا ہوا پھل بھی بھی ؟ میسر ۔