خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 455

خطبات طاہر جلد ۱۲ 455 خطبہ جمعہ ۱۱/جون ۱۹۹۳ء موتیا بند کے ساتھ آنکھوں کے اوپر جھلی آجاتی ہے اور وہ دیکھ نہیں سکتیں۔چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام کے دور میں موسوی امت کی جو حالت تھی اس کا ایک گہرا تعلق مسیح کی آمد ثانی کے دور سے ہے اور لازم تھا کہ وہ علامتیں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہونے والے ان لوگوں میں پائی جاتیں جو اپنی بیماریوں کی وجہ سے ایک مسیحی نفس کا تقاضا کر رہے تھے۔جن پہلی بیماریوں نے مسیح اول کا تقاضا کیا تھا اور مسیح نے ان لوگوں کو شفاء بخشی تھی جنہوں نے اسے قبول کیا۔لا زم تھا کہ یہ بیماریاں جب دوبارہ سر اٹھا ئیں تو وہی آزمودہ نسخہ دوبارہ آسمان سے اتارا جائے۔میچ کی آمد ثانی کا یہ راز ہے مگر جن لوگوں کی آنکھیں اندھی ہو چکی ہوں وہ بھی نہیں دیکھتے اور جو گھبراتے ہیں کہ اگر ہم نے دیکھا تو صداقت قبول کرنی پڑے گی اور دنیا کے پھندے ان کو تو فیق نہیں دیتے کہ وہ آزاد ہو کر صداقت کی طرف بڑھ سکیں ان کا حال بھی اندھوں کی طرح ہو جاتا ہے۔کچھ وہ ہیں جوسن نہیں سکتے کیونکہ ان کے کانوں پر مہریں ثبت ہیں اور سنائی دیتا ہی نہیں۔ان معنوں میں کہ لمبے عرصہ کی غفلتوں کے نتیجہ میں لمبے عرصہ کی ٹیڑھی سوچوں کے نتیجہ میں واقعہ ان کو سچا پیغام سمجھ ہی نہیں آسکتا لیکن ایسے بھی ہیں جو ڈرتے ہیں کہ ہم سمجھ جائیں گے اور اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں۔قرآن کریم نے دوسری جگہ ایسے لوگوں کی مثال دی ہے کہ جب بجلی چمکتی ہے تو وہ موت کے ڈر سے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں تو مراد یہ ہے کہ کچھ بہرے نہیں بھی ہوتے لیکن آوازوں کے خوف سے وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیا کرتے ہیں تو ایسے بھی بعض سننے والے ہیں جن کے اندر شنوائی کی رمق موجود ہوتی ہے لیکن ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ نہ ہو کہ ہم سمجھ ہی جائیں اور مجبور ہو جائیں اور پھر ان کی پیروی کرنی پڑے اور پھر دنیا سے تعلقات کاٹنے پڑیں۔اس ضمن میں آخری فقرے یہ بیان کیے گئے ہیں کہ تا ایسا نہ ہو کہ آنکھوں سے معلوم ،، پہلے وہ لوگ جن کا ذکر ختم الله کے تابع ہے کہ وہ تو لمبی بد کرداریوں کی وجہ سے سننے سے ہی محروم رہ گئے ، دیکھنے سے ہی محروم اور ان کے دل غافل ہو چکے ہیں ان کو کچھ مجھ نہیں آ سکتی۔آمْ عَلَى قُلُوبِ اَقْفَالُهَا۔قرآن کریم نے دوسری جگہ اس مضمون کو یوں بیان فرمایا کہ گویا ان کے دلوں پر تالے پڑ گئے ہیں، تالے پڑ گئے ہوں تو کوئی چیز اندر جاتی ہی نہیں مگر کچھ اور بھی ہیں جہاں چیزیں آتی جاتی ہیں اور تالے نہیں پڑے ہوئے مگر اچھی چیزوں کے لئے وہ تالے لگا لیتے ہیں اور بری