خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 452 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 452

خطبات طاہر جلد ۱۲ 452 خطبہ جمعہ اارجون ۱۹۹۳ء اس وقت سمجھو کہ تمہارے اندر کوئی قصور تھا اور واقعہ یہ ہے کہ مسیح نے جو مثال دی ہے وہ تو روز مرہ کے واقعہ کی ایک عام مثال ہے۔دھوپ نکلی اور پیج ضائع ہو گیا۔بارش کے ساتھ پیج کے ضائع ہونے کا تعلق یہ ایک بہت ہی غیر معمولی مضمون ہے اور نئی شان کا مضمون ہے جس کو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب الہی تجلیات زور دکھاتی ہیں جب خدا تعالیٰ کے جلوے کثرت سے نازل ہوتے ہیں اور جماعت کو ترقیات ملتی ہیں تو ایسے لوگ پھر ساتھ نہیں دے سکتے جن کے اندر کمزور ساتعلق پیدا ہوا ہوتا ہے۔وہ ان مطالبوں کو پورے نہیں کر سکتے۔ایسی صورت میں ان سے جو توقعات پیدا ہوتی ہیں ان میں وہ ساتھ چل نہیں سکتے۔چنانچہ ان کی موت بڑھے ہوئے جلوے بن جاتے ہیں لیکن چٹان پر بیج پھینکا اور پھر دھوپ نے اس کو جلا دیا، یہ روز مرہ کا ایک ایسا معاملہ ہے جس کا انسانی صفات کے ساتھ کوئی گہرا تعلق نہیں ہے لیکن قرآن کریم نے جو مضمون بیان فرمایا ہے اس کا ایمانیات کے ساتھ اور عملاً جس طرح روز بروز واقعات رونما ہوتے ہیں ان کے ساتھ ایک بہت گہرا اور حقیقی تعلق ہے۔پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم نے تبلیغ کی اور بیج پھیلا دیئے اور بد قسمتی ایسی ہے کہ یہ زمین سنگلاخ ہے ان کو قرآن کریم کی مثال کو پیش نظر رکھنا چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ سنگلاخ زمین پر تم نے بیج پھینکا کیوں تھا اور یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ساری زمین سنگلاخ ہے بلکہ قرآن کریم تو فرماتا ہے کہ سنگلاخ ہونے کے باوجود یہ امکان موجود ہے کہ پتھر دل پھٹ پڑیں اور ان سے چشمے بہہ جائیں۔پس اگر تم ساتھ دعائیں کرو اور رضائے باری تعالیٰ کی خاطر کام کرو تو پھر تم سے جو غلطیاں ہوں گی اس کے بھی نیک ہی نتیجے نکلیں گے۔پس تبلیغ کا بہت گہرا نکتہ سمجھایا گیا اور اپنے نفس کا تجزیہ کرنے کا ایک طریق ہمیں سکھلا دیا۔اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو اس سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔پھر مسیح نے اس پیج کی مثال دی جو نشو و نما پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو برکت دینے کے جو وعدے مسیح سے کئے تھے ان کا ذکر فرمایا ہے۔اس کے مقابل پر کچھ وعدے حضرت اقدس صلى الله محمد رسول اللہ ہے سے بھی کئے گئے اور ان کی نشو ونما کا بھی ذکر کیا گیا۔اب دیکھیں ان دونوں میں ﷺ کتنا فرق ہے۔مسیح کہتے ہیں۔کچھ اچھی زمین میں گرے اور پھل لائے۔کچھ سو گنا کچھ ساٹھ گنا