خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 453 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 453

خطبات طاہر جلد ۱۲ 453 خطبہ جمعہ ۱۱/جون ۱۹۹۳ء کچھ میں گنا جس کے کان ہوں وہ سن لیں۔( انجیل متی :۱۳-۲۳) جبکہ قرآن کریم فرماتا ہے مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةِ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ۖ وَاسِعُ عَلِيمٌ (البقره: ۲۶۲) اے محمد مصطفی ﷺ کے غلاموا تمہیں خوشخبری ہو تمہاری مثال مسیح کے بیج پھینکنے والے جیسی مثال نہیں ہے جس کو زیادہ سے زیادہ سو گنا پھل لگنا تھا۔اس سے نیچے اتر کر ساٹھ گنا یا پھر اس سے بھی کم۔فرمایا کہ تم حمد مصطفی ﷺ کے غلام ہواور محمد مصطفی ﷺ کی برکت سے تم سے یہ وعدہ ہے کہ حَبَّةٍ انبَتَتْ سَبْعَ سَنَا بِل والی مثال ایسے بیج کی طرح ہوگی جس میں سات بالیاں نکلیں۔سنبل بالی کو کہتے ہیں۔فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ اور ہر بالی میں سوسودانے لگے ہوئے ہوں۔کہاں یہ کہ زیادہ سے زیادہ سومگر آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں سے ہمارا یہ وعدہ ہے کہ اگر تم ایسی جگہ بیچ پھینکو گے جو زرخیز ہو اور تقویٰ کے ساتھ پھینکو گے تو خود تمہاری مثال بیج کی سی ہو جائے گی۔جو نشو ونما پاتے ہوئے ایسی نشو و نما پاتا ہے کہ اس میں ایک ایک دانے سے سات سات بالیاں نکلتی ہیں اور ہر بالی میں سودانے لگتے ہیں یعنی سات سو گنا زیادہ لیکن یہ بھی تو ایک محدود وعدہ ہے اور آنحضرت ﷺ نے ترقی کی تمام حدیں پھلانگ دی تھیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ یہ نہ سمجھنا کہ سات سو پر بات ختم ہو جائے گی۔اگر تم اس کی کامل پیروی کرو گے تو یہ وہ رسول ہے کہ تم سے لامتناہی ترقیات کا وعدہ ہے، باقیوں سے جو آگے بڑھ جائیں گے اُن کے لئے کوئی حد بندی نہیں ہے۔وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وہ جتنا چاہے گا بڑھاتا جائے گا جس کے لئے چاہے گا اور زیادہ بڑھاتا چلا جائے گا وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ اللہ تعالیٰ بہت وسعت دینے والا ہے اور بہت علیم ہے۔علیم کا تعلق انسان کے اندرونی حالات سے ہے اور خدا تعالیٰ کافضل جو غیر معمولی طور پر نازل ہوتا ہے وہ انسان کی اندرونی تمناؤں کے ساتھ ایک گہراتعلق رکھتا ہے۔اگر خدا کی راہ میں غیر معمولی قربانیوں کی تمنائیں پنپ رہی ہوں اور انسان ہمیشہ اس خیال میں