خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 450
خطبات طاہر جلد ۱۲ 450 خطبہ جمعہ اارجون ۱۹۹۳ء متنبہ کرنے والی ہیں کہ دیکھو تم پہلے مسیح کے دور پر ٹھہر نہ جانا تمہاری مثال اس سے ملتی ہے مگر تمہاری شان اس سے بڑھ کر ہونی چاہئے کیونکہ تم مسیح موسوی کے غلام نہیں، مسیح محمدی کے غلام ہو۔پس نظر رکھو کہ مسیح نے کیا کیا تمثیلات بیان کیں ان میں سے جو بہتر ہیں وہ اپنے لئے چن لو۔قرآن کریم مومن کی شان یہ بیان فرماتا ہے کہ جب ان کے سامنے چیزیں بیان کی جائیں تو احسن کو اختیار کر لیتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ مختلف قسم کی تمثیلات ہو سکتی ہیں۔کچھ نسبتا ادنی ، کچھ اس سے بہتر ، کچھ اس سے بہت بہتر اور بعض احسن ہیں سب سے اچھی تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں سے یہ توقع رکھی گئی ہے کہ تم ہر قسم کی تمثیلات سنو گے مگر احسن کو چنا کیونکہ تمہارا آقا احسن ہے جس کی غلامی کا دم بھرتے ہو وہ تمام انبیاء سے بڑھ کر ہے۔تمام تخلیق میں کوئی وجوداس شان کا پیدا نہیں ہوا۔پس اس کی نسبت سے تم اپنے اندر بھی ویسے ہی کمالات پیدا کرنے کی کوشش کرو۔اب حضرت مسیح کی تمثیلات سنیں جن کا ان آیات سے تعلق ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اُسی روز یسوع گھر سے نکل کر جھیل کے کنارے جا بیٹھا اور اس کے پاس ایسی بڑی بھیٹر جمع ہوگئی کہ وہ کشتی پر چڑھ بیٹھا اور ساری بھیٹر کنارے پر کھڑی رہی اور اُس نے ان سے بہت سی باتیں تمثیلوں میں کہیں کہ دیکھو ایک بونے والا بیج بونے نکلا اور ہوتے وقت کچھ دانے راہ کے کنارے گرے اور پرندوں نے آکر ان کو چک لیا ( یعنی ایک تبلیغ کرنے والا ایسا بھی ہے جس کی یہ مثال ہے ) اور کچھ پتھریلی زمین پر گرے جہاں ان کو بہت مٹی نہ ملی اور گہری مٹی نہ ملنے کے سبب سے جلد اُگ آئے اور جب سورج نکلا تو جل گئے اور جڑ نہ ہونے کے سبب سے سوکھ گئے اور کچھ جھاڑیوں میں گرے اور جھاڑیوں نے بڑھ کر اُن کو دبا لیا اور کچھ اچھی زمین میں گرے اور پھل لائے۔کچھ سو گنا کچھ ساٹھ گنا کچھ میں گنا جن کے کان ہوں وہ سن لے شاگردوں نے پاس آکر اُس سے کہا تو اُن سے تمثیلوں میں کیوں باتیں کرتا ہے؟ اُس نے جواب میں اُن سے کہا اس لئے کہ تم کو آسمان کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر ان کو نہیں دی گئی کیونکہ جس کے پاس ہے اُسے دیا جائے گا اور اُس کے پاس زیادہ