خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 41

خطبات طاہر جلد ۱۲ 41 خطبه جمعه ۱۵ جنوری ۱۹۹۳ء خدا کی امانت تھی اور وہ محبت وہاں سے رخصت ہو کر اپنے پیار کا اظہار پیچھے چھوڑتے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو جاتی تھی تو اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ (البقره: ۱۵۷) بھی دراصل الحب في اللہ کی ایک تفسیر ہے۔ پس جماعت احمدیہ کو جو یہ محبت ہے ایسی محبت دنیا میں کسی کو کسی سے نہیں ایک عجیب عالمگیر منظر ہے جس کی کوئی مثال کہیں دکھائی نہیں دیتی اور اسی محبت کو ہم نے انسانوں کو اکٹھا کرنے کے لئے استعمال کرنا ہے۔ اسی کی محبت کے رشتہ میں سب دنیا کے انسانوں کو پالنا ہے یہ ہمارا مقصد اعلیٰ ہے جس کی خاطر ہم پیدا کئے گئے اور اس مقصد کو پورا کئے بغیر جماعت احمدیہ کی تعمیر کی غرض پوری نہیں ہوتی اور یہ انشاء اللہ ہو کر رہے گا۔ پس محبتوں کو پھیلاتے رہیں اور لاہی محبتوں کو پھیلاتے رہیں۔ اس ضمن میں میں خصوصیت سے اہلِ ربوہ اور پاکستان کے ان دیہات کو جن کے متعلق رپورٹیں مل رہی ہیں کہ دن بدن شوق بڑھ رہے ہیں اور ذاتی Antenas بھی لگ رہے ہیں اور جماعتی بھی لگ رہے ہیں ۔ ایسے لوگ جنہوں نے مقامی خطبہ جمعہ بھی چھوڑ دئے تھے ۔ وہ دوڑ دوڑ کر آتے ہیں اور وہ جو احمدیت کے کنارے تک پہنچ گئے تھے وہ تیزی سے مرکز کی طرف بڑھ رہے ہیں جب یہ رپورٹیں ملتی ہیں تو میرا دل چاہتا ہے کہ یہ تعلق اور بھی بڑھیں اس لئے میں جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ کثرت سے کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ احمدی خواہ عجوبہ کی خاطر ہی آجائیں ایک دو دفعہ آجا ئیں تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ وہ یہیں کے ہور ہیں گے پھر واپس نہیں جائیں گے۔ اب بھی ربوہ سے جو رپورٹ مل رہی ہے اس کے مطابق جتنی تعداد میں جمعہ پر پہنچا کرتے تھے اس سے زیادہ تعداد میں اب یہاں آنے لگے ہیں لیکن لاہی محبت کی خاطر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر یہ لوگ جمعہ پر نہ جانا شروع کریں تو میرا دل خوش نہیں ہو گا یہ بھی خطبہ ہے یہ بھی دین کا کام ہے۔ دین سے محبت کی خاطر اگر آئیں اور دین کے فرض سے غافل ہو جائیں تو یہ میرے لئے خوشی کی نہیں بلکہ سخت فکر کی بات ہو گی اور اس میں مخفی شرک کا ایک پہلو مجھے دکھائی دے گا اور واقعہ اگر ہم اپنے نفوس کا تجزیہ کریں تو اس طرح ہم اپنی نیتوں کو پہچان سکتے ہیں۔ پاک نام پر نیتیں چلتی ہیں لیکن بعض دفعہ بدیاں ساتھ لئے ہوئے ہوتی ہیں۔ پس دنیا میں جہاں بھی کوئی احمدی میری محبت کی خاطر جو آغاز ہے انجام نہیں خدا کی طرف حرکت کی ایک منزل ہے آخری منزل نہیں اس وجہ سے خطبوں پر