خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 442
خطبات طاہر جلد ۱۲ 442 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء میں سے ہے۔فرمایا ، اپنے رب کی طرف سے ہمیں یہ بات بتائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ گناہ کرتا ہے اور پھر دعامانگتا ہے کہ اے اللہ ! میرے گناہ بخش دے۔اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے ناسمجھی سے گناہ تو کیا لیکن اسے علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور چاہے تو پکڑ بھی لے۔پھر میرا بندہ تو بہ توڑ دیتا ہے اور گناہ کرنے لگ جاتا ہے اور پھر نادم ہو کر کہتا ہے : اے میرے رب : میرے گناہ بخش دے یا میرا گناہ بخش دے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کیا لیکن وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے وہ گناہوں کو معاف بھی فرماتا ہے اور گرفت بھی کرتا ہے۔پھر بندہ تو بہ تو و دیتا ہے اور گناہ کرتا ہے لیکن نادم ہو کر دعا مانگتا ہے کہ اے میرے رب ! میرے گناہ بخش۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جو جانتا ہے کہ میرا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور کبھی گرفت بھی کرتا ہے ( یعنی میرا بندہ کمزور ہے اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکتا غلطی کر بیٹھتا ہے لیکن ) اگر وہ نادم ہو کر تو بہ کرے تو میں اسے بخش دوں یہ اس کے معنی ہیں ) اور آئندہ گناہوں سے اسے بچاؤں گا۔وہ اپنی منشاء کے مطابق ہی کام کرے گا۔( بخاری کتاب التوحید حدیث نمبر : ۴۹۵۳) یہ آخری بات ہے یہ دراصل وہ نقطہ مرکزی ہے جس کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔بعض لوگ گناہ کرتے ہیں۔تو بہ کرتے ہیں بخشش مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ رحمت کا سلوک فرماتا ہے لیکن پھر ایسی حالت ہو جاتی ہے اور پھر ایسی حالت ہو جاتی ہے اور بعضوں کے لئے یہ عادت مستمرہ بن جاتی ہے مگر مغفرت کی سچی پہچان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پھر مناسب تو بہ کی توفیق بخش دیتا ہے چنانچہ آنحضرت ﷺ نے خدا تعالیٰ کے پیار کے کلمات جس گنہگار کے متعلق بیان فرمائے ہیں اس کا انجام بتایا ہے کہ اس کے دل میں نیکی کا غلبہ تھا اور کمزوری سے مجبور ہو جایا کرتا تھا۔چنانچہ بعض ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ بعض گناہوں کے لئے انسان اس طرح بے اختیار ہو جاتا ہے جس طرح اس کی سرشت میں یہ بات داخل ہوئی ہو اور یہ بھی ایک نفسیاتی بیماری ہے چنانچہ مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مصلح موعودؓ نے اس مضمون پر کسی خطبہ میں یا کسی اور تقریر میں گفتگوفرمائی اور یہ کہا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس مضمون کا گہر اعلم بخشا ہے اور میں بتا سکتا ہوں کہ کیا کیا حالات ہیں جن میں ایک گناہ گار عمد ا گناہ نہیں کر رہا ہوتا بلکہ بعض بے اختیاریوں سے مجبور ہوتا ہے لیکن آئندہ جب خدا تعالیٰ مجھے توفیق دے گا تو میں اس مضمون پر روشنی ڈالوں گا لیکن وہ پھر خدا تعالیٰ کی طرف مقدر نہیں تھا کہ آپ کو یہ موقع ملے مگر