خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 437 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 437

خطبات طاہر جلد ۱۲ 437 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ہمنکسر المزاج ہیں، دعا گو ہیں لیکن ایک واضح ہدایت پر عمل نہ کرنے کے نتیجہ میں وہیں میں نے امیر صاحب جرمنی سے ان کے متعلق ناراضگی کا اظہار کیا اور وہ بھی مشتہر ہو گیا وہ مضمون چونکہ ایسا ہے جس کا جماعت کو علم ہونا چاہئے اس لئے میں وہ ذکر چھیڑتا ہوں۔کبڈی کے میچ میں عموماً رواج ہے کہ لنگوٹ کستے ہیں اور وہ بھی ایسے جو عملاً ننگا ہونے کے مترادف ہے لیکن ایسے پروگرام کو جب عالمی طور پر ٹیلی وائز کیا جائے تو جماعت کا وقار داؤ پر لگ جاتا ہے۔جماعت کی روایات داؤ پر لگ جاتی ہیں۔کہیں ایک گاؤں میں کسی کھیت میں کسی جگہ ایسا واقعہ ہو جائے تو وہ بھی ٹھیک نہیں لیکن عالمی سطح پر ایسے پروگرام دکھائے جا رہے ہوں اور لباس بیہودہ ہو تو یہ جماعت کے وقار کے خلاف ہے اور جماعت کسی قیمت پر اجازت نہیں دے سکتی۔چنانچہ جانے سے دس پندرہ دن پہلے تفصیل سے ان کو یہ لکھا گیا اور فون پر بھی غالباً پیغام دیا گیا کہ اس میسج کو تمام عالم میں دکھانے کے لئے شرط یہ ہے کہ لباس گھٹنے کے نیچے تک ڈھکا ہوا ہو گا اور پیٹ پر پوری طرح کسا ہوگا تا کہ اس سے انسان ننگا یا بیہودہ دکھائی نہ دے۔مجھے اطمینان دلوا دیا گیا کہ ہاں ایسا ہی ہوگا۔جب میں وہاں پہنچا ہوں تو اس وقت تک کوئی ایسی کارروائی نہیں ہوئی تھی۔پھر امیر صاحب جرمنی کو اور ان کو اکٹھا بٹھا کر میں نے تفصیل سے سمجھایا کہ آپ کو دنیا سے شرمانے کی کیا ضرورت ہے کہ دنیا کہے گی یہ کیسا لباس پہن آئے ہیں؟ جس سے شرمانا ہے اس سے شرمائیں یعنی خدا سے شرمائیں اور اپنی پاک روایات کا آئینہ بنائیں اور اس سے شرمائیں۔اگر اس میں غلط داغ پڑتا ہے تو وہ شرمانے کی بات ہے اس لئے آپ بالکل پروانہ کریں اور دنیا جو مرضی کہے میں ذمہ دار ہوں ، آپ ایسا لباس بنا ئیں اور ان کو یہ بھی بتایا کہ زین کا مضبوط ہو اور کمر پر پیٹی ہو اور گھٹنے کے نیچے مضبوط دوہری شہری پٹی ہو اور رنگ اس کا بدل جائے۔خوبصورت بھی بہت دکھائی دے گا جس طرح برجس ہوتی ہے اور کسی کا ہاتھ پڑ جائے تو مضبوط سے مضبوط آدمی بھی اس کو تو ڑ نہیں سکتا اور ایک آدمی کھیل کے دوران اس وہم میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ کہیں اس کا لباس نہ اتر جائے۔اس طرح واضح بات ہونے کے بعد جس کے سپرد کیا گیا غالباً اس سے غلطی ہوئی ہوگی لیکن بہر حال جو بھی ہوا جب میں نے دیکھا تو وہ کپڑے کی چکنی چکنی چیزیں تھیں اور پتلے نالے یا دھاگے سے وہ باندھے گئے تھے اور خطرہ تھا کہ اگر کسی کا ہاتھ پڑے تو فائدہ کی بجائے اور زیادہ بے حیائی ہوگی۔چنانچہ جو میچ سب سے زیادہ پاپولر ہوا ہے جس میں میجر محمود صاحب