خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 433
خطبات طاہر جلد ۱۲ 433 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء کوشش کرتا ہے کہ میں لے جاؤں لیکن یہ بھی تو محبت کا ہی ایک اظہار ہے ورنہ جنت میں کیوں لوگ چھین چھین کر کھاتے جہاں ہر چیز کی بہتات ہوگی۔پس یہ جو کائنات ہے اس پر اگر آپ غور کریں تو ہر جانور میں خدا نے ایک ایسی خوبی رکھ دی ہے کہ اکثر انسان ان خوبیوں میں ان جانوروں سے سبق لے سکتے ہیں اور اگر ان کی ان خوبیوں پر نظر رکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے اشرف المخلوقات کی خوبیاں سارے عالم میں پھیلی پڑی ہیں اور ہر چیز اس کے لئے آئینہ بن گئی ہے۔اسے کتے میں بھی ایک تصویر دکھائی دیتی ہے جو اپنے سے اچھی ہے، اسے کوے میں بھی ایک تصویر دکھائی دیتی ہے جو اپنے سے اچھی ہے، اسے شیروں میں بھی اور گائے بھینس میں بھی اور دوسرے جانوروں میں بھی اور کیڑوں میں بھی اور مکھیوں میں بھی بعض ایسی صفات دکھائی دیتی ہیں جو اس کی اپنی ذات کی ملتی جلتی صفات سے بہتر ہیں۔گویا اس کو ہر طرف ایک آئینہ دکھایا جا رہا ہے کہ تمہیں تو ہم نے یہ بنانا تھا اور تم سے ادنی مخلوقات میں تو یہ خوبیاں اسی طرح محفوظ چلی آرہی ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کو محفوظ رکھا ہے اور ان مخلوقات کا اختیار نہیں ہے کہ اس حفاظت سے باہر نکل جائیں مگر تمہاری خاطر یہ پیدا کی گئی تھیں کیونکہ تمہیں ادنیٰ سے اعلیٰ حالت میں جب ترقی دی گئی تو ان تمام صفات حسنہ کے اجزا تمہارے اندر شامل ہیں۔تمہاری خمیر میں داخل ہیں ورنہ ارتقاء کے کوئی معنے نہیں ہیں۔ارتقاء کا مطلب یہ ہے کہ لمبے دور میں مختلف نوعیت کی خوبیوں سے انسان کا خمیر اٹھایا گیا ہے اور جو خوبی کسی جانور کے دور میں زندگی میں شامل کی گئی وہ خوبی بچ گئی اور آئندہ بہت قسم کی مخلوقات کی طرف منتقل ہوتی رہی۔ان خوبیوں کے اجتماع کا نام انسان ہے لیکن انسان بننے کے بعد جب اسے اختیار دیا گیا تو ان خوبیوں سے روگردانی کی اور پیٹھ پھیر کر ایک طرف ہو گیا اور ان سب نعمتوں کو بھلا بیٹھا۔جب اس مضمون پر آپ غور کریں تو ہر طرف حسن کا ایک کرشمہ دکھائی دے گا جو آپ کو آئینہ دکھا رہا ہے اور دوسری طرف وہی آئینہ آپ کو عجز کی تعلیم بھی دے گا کہ تم کیسے عاجز انسان ہو؟ اس بات میں ایک کتے سے بھی کمتر ہو، ایک گدھ سے بھی کمتر ہو، ایک کوے سے بھی کمتر ہو، ایک بھیڑئے اور شیر سے بھی کمتر ہو۔یعنی ہر طرف سے ایک یہ آواز بھی تو اٹھے گی کہ تم اس سے بھی کمتر ہو اس سے بھی کمتر ہو اور اس سے بھی کمتر ہو اور یہ جو آواز ہے یہ اتنی حقیقی ہے اتنا گہرا پیغام رکھتی ہے کہ اس کے نتیجہ میں انسان مجبور ہے کہ وہ اپنے ہر قسم کے تکبر سے باز آجائے اور اپنے آپ کو ایک