خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 429
خطبات طاہر جلد ۱۲ 429 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء لیکن جب بن گئے تو پھر میں بہت بے چین ہوا۔میں نے کہا یہ میں کیا حرکت کر بیٹھا ؟ اب ملاقات ہو گی تو معافی مانگوں گا۔میں نے ان سے کہا کہ یہ تو کوئی ایسی بات ہی نہیں۔ہماری مچھلیاں تو اکثر لوگ ہی کھاتے تھے۔مجھے تو کبھی کبھی ملتی تھی تو کوئی ایسی بات نہیں لیکن آپ کی بات مجھے بڑی اچھی لگی ہے کہ آپ نے یہ بوجھ دل میں رکھا اور جب تک معافی نہ مانگی آپ کو سکون نہیں ملا۔ضمناً میں یہ بھی بتادوں کہ اس وقت ربوہ اور احمد نگر کے لوگ بھی غالباً خطبہ سن رہے ہوں گے کہیں وہ باغ میں گنڈوئے نکالنے نہ چلے جائیں کیونکہ میاں مسرور صاحب نے بڑی محنت سے دوبارہ مچھلیاں ٹھیک کی ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ لوگ ان کو بڑا ہونے دیں گے۔خیر یہ تو ایک ضمنی بات ہے لیکن اس دوران مجھے خیال آیا کہ بعض دفعہ ایک انسان کا بالکل چھوٹا سا معمولی سا گناہ کرتا ہے اور جہاں تعلق بڑھ جاتا ہے وہاں گناہ کا وہ بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے۔اب یہی وہ نوجوان تھے کہ جب تک میں خلیفہ نہیں ہوا وہ دو مچھلیاں بوجھ نہیں بنیں لیکن خلیفہ بننے کے بعد وہ بوجھ بن گئیں اور بوجھ بڑھتا چلا گیا۔تو انسان کیسا نادان ہے کہ انسانی تعلقات میں تو معمولی معمولی غفلتوں پر بھی جب تک معافی نہ مانگ لے، دل پر بوجھ رہتا ہے مگر خدا کے مقابل پر اتنی غلطیاں کرتا ہے اور بار ہا کرتا چلا جاتا ہے کہ اس کا اس کے دل پر کوئی بوجھ نہیں رہتا۔وہ سمجھتا ہے کہ غلطیاں کیں تو چلو چھٹی ہوئی۔پھر سہی خدا بخش دے گا۔یہ بخش دے گا کا جو فقرہ ہے یہ ایک گستاخی بھی ہے۔یہ محض حسن ظن نہیں ہے اور قرآن کریم نے ان معنوں میں ان گناہ گاروں کا ذکر کیا ہے جو خدا تعالیٰ کے متعلق تخفیف کی وجہ سے یہ فقرہ کہتے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔چنانچہ یہود کے متعلق یہ ذکر ملتا ہے کہ وہ ایسے بدنصیب لوگ تھے کہ گناہ کرتے تھے اور کہتے تھے سَيُغْفَرُ لَنَا (الاعراف:۱۷۰) ہمیں بخش دیا جائے گا تو خدا سے بخشش کی امید رکھنا ایک معجز کو چاہتا ہے، ایک انکساری کو چاہتا ہے جیسا کہ میں نے آیت کریمہ آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہے۔خدا تعالیٰ ہر گناہ بخش سکتا ہے جب چاہے اور جس کے لئے چاہے لیکن ان کو نہیں بخشا جن کے ہاں ایک تکبر یا بے نیازی پائی جاتی ہو۔جب لوگ خدا تعالیٰ کے مقابل پر تکبر اختیار کریں یا بے نیازی سے گناہ کریں اور ان کے دل پر بوجھ نہ پڑے تو پھر ان کا یہ کہنا کہ بخش دیئے جائیں گے یہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا بلکہ ایسے فقرے سے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں