خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 422 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 422

خطبات طاہر جلد ۱۲ 422 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء احسان ہمیں نیکی ملی ہے اگر وہ نہ ہوتے تو ہم میں یہ بات نہ ہوتی۔پھر درود پڑھیں گے تو وہ درود ایسا درود ہوگا جو آپ کی ذات میں آئندہ جاری ہو جائے گا۔آپ کی نیکیاں اسی طرح اگلی آنے والی نسلیں دیکھیں گی اور حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے طفیل جو پاک تبدیلیاں کرنے کی صلاحیتیں آپ کو عطا ہوئی ہیں۔تبدیلیاں جب جہاں بھی کہیں بھی دنیا میں واقع ہوں گی۔وہ تبدیلیاں اُن تبدیلیوں کا فیض پانے والا خواہ زبان سے کہے یا نہ کہے۔عملاً اس کے اعمال آپ پر درود بھیج رہے ہوں گے۔پس یہ وہ کام ہیں جو ہم نے کرنے ہیں بوجھل سہی ، بھاری سہی مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر دعائیں کرتے ہوئے عجز و انکساری کے ساتھ ،حوصلہ اور توکل رکھتے ہوئے بڑے سے بڑے کام پر بھی آپ ہاتھ ڈالیں گے تو آسان کر دیا جائے گا۔حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے غلاموں کو بتایا تھا تم میرے کاموں پر تعجب کرتے ہو مگر میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر رائی کے برابر بھی تم میں ایمان ہو تم پہاڑوں کو اپنی طرف بلاؤ گے تو دیکھو گے پہاڑ تمہاری طرف چلے آتے ہیں۔مسیح کی قوم اُن پہاڑوں کو اپنی طرف بلانے میں ناکام رہی۔اے محمد مصطفی ﷺ کے غلامو! اے عاشق محمد مصطفی ﷺ کے غلامو! تم آپ کے بھیجے ہوئے آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق آئے ہوئے مسیح کی غلامی کا دعوی کرتے ہو خدا کی قسم اگر تم تو کل رکھتے ہوئے اور ایمان کے جذبے کے ساتھ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہوئے پہاڑوں کو اپنی طرف بلاؤ گے تو ضرور پہاڑ تمہاری طرف آئیں گے۔تم دنیا میں عظیم انقلاب بر پا کر سکتے ہو۔تم بڑی سی بڑی روکوں کو خاک کی طرح رستوں سے اڑا سکتے ہو لیکن اپنی صلاحیتوں کو پہچانو۔جانو کہ تم کون ہو؟ کن سے وابستگی سے تم کو طاقت نصیب ہوگی۔کس سلیقے اور حکمت کے ساتھ، مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنے ہوں گے ایسا کرو گے تو تمہارے کام آسان ہو جائیں گے، تمہارے کام بوجھل محسوس نہیں ہوں گے۔ایسے کام جو دعا کے ساتھ ، تو کل کے ساتھ اللہ اور رسول کی محبت میں کئے جاتے ہیں، وہ بوجھ نہیں بنا کرتے ، بوجھ محسوس ہوتے ہیں اُن لوگوں کو جو باہر سے دیکھتے ہیں، جو وہ کام کرتے ہیں اُن کے لئے کام آسان ہوتے چلے جاتے ہیں۔وہ سارا دن کام کرتے ہیں اور نہیں تھکتے ، دیکھنے والے حیران ہوتے ہیں کہ کیوں نہیں تھکتے۔اس لئے کہ وہ کام اپنی ذات میں لمحہ بہ لمحہ اُن کو جزا دے رہے ہوتے ہیں، اُن کو طاقت بخش رہے ہوتے ہیں۔