خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 414
خطبات طاہر جلد ۱۲ 414 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء یہ نظر رکھنی ہے، اتنوں پر وہ نظر رکھنی ہے، اتنے بڑے کام ، ہم نے اور بھی تو کام کرنے ہیں۔یہ ردعمل ہوتا ہے جو طبعی نفسیاتی رد عمل ہے جو ہر انسان میں پیدا ہوتا ہے۔ان کو پتا نہیں کہ کام کیسے کرنا ہے؟ اس لئے وہ سیکرٹری جس نے ایک ٹیم بنائی ہے، جس نے سلیقے کے ساتھ کام کا تجزیہ کیا ہے؟ اس کا کام یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے کام معین طور پر مختلف مجالس کے سپر د کرے۔ہر مجلس کے سپر دایسا کام کرے کہ جو مجلس والے جانتے ہوں کہ ہمیں دیکھ کر یہ بتا رہا ہے۔ان کو محسوس ہو کہ ہم نظر آ رہے ہیں اس وقت۔اُن کو پتا ہو کہ فلاں فلاں کمزوری ہمارے اندر پائی جاتی ہے اور ہمیں جو کہا جا رہا ہے کہ اتنے آدمیوں میں سے اتنوں میں یہ کمزوریاں ہیں اس کو دور کرو تو یہ ایک معین پیغام ہے۔پھر یہ نہیں کہنا کہ بے نمازیوں کو نمازی بناؤ بلکہ اُس کا سلیقہ بھی سکھانا ہے۔یہ بھی بتانا ہے کہ کس طرح یہ کام کرنا ہے اور پھر معین وقت دینا ہے کہ ایک مہینے میں تم محنت کر کے ہمیں اپنے نتیجے سے مطلع کرو۔جیسے مثال دے رہا تھا کہ ایک مجلس میں سو میں سے ۷۰ نمازی ہیں اگر۔تو اُن سے یہ درخواست کی جائے کہ ایک مہینہ محنت کرو اور ہے کو ۷۵ بناؤ ، ۸۰ بناؤ ۹۰۷ بناؤ جتنی توفیق ہے لیکن معین طور پر پانچ یا چھ یا سات یا آٹھ یا دس ہیں آدمیوں کو پیش نظر رکھ لو۔اور اُن کو مختلف انصار یا مختلف خدام یا مختلف ممبرات لجنہ کے سپر د کرو اور اس سپردگی کی ہمیں اطلاع کرو۔ہمیں بتاؤ کہ کس بیمار کوکس صحت مند کے سپرد کیا گیا ہے؟، کیا ہدایتیں دی گئی ہیں، کس طرح کام کر رہے ہیں، کس طرح ان کے اندر نیکی کے بیج ڈال رہے ہیں؟ یا اُن کے اندر ولولہ پیدا کر رہے ہیں۔جب یہ بات ہوگی تو فورا یہ بھی خیال آئے گا۔جب ہم میدان کارزار میں کسی سپاہی کو بھیجتے ہیں تو ہتھیار بھی تو دینے چاہئیں۔پھر سیکرٹری کو یہ بھی خیال آئے گا تربیت کے متعلق خصوصاً نماز کی اہمیت سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایسے ایسے اعلیٰ اقتباسات ہیں۔اُن میں سے ایک دو چن کر میں کیوں نہ بھیج دوں۔ایسی احادیث نبویہ ہیں جن سے نماز کی غیر معمولی اہمیت انسان پر روشن ہوتی ہے اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے الفاظ سے زیادہ دلوں میں کوئی بات تبدیلی پیدا نہیں کرسکتی یعنی قرآن کے بعد وہ قرآن کی ہی باتیں ہوا کرتی ہیں تو ان معنوں میں کہہ رہا ہوں کہ قرآن کا پیغام جب صلى الله محمد رسول الله ﷺ پہنچاتے ہیں تو اُس سے زیادہ اثر کسی اور چیز کا نہیں ہوتا۔پھر وہ ایسی حدیثوں کو بھی تلاش کریں گے جن میں دلوں میں انقلاب برپا کرنے کی طاقتیں موجود ہیں۔وہ سوچیں گے کہ یہ یہ