خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 37
خطبات طاہر جلد ۱۲ 37 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۹۳ء نے اپنے مستقبل کی اپنی کہانی جو آج کے افق پرلکھنی شروع کر دی ہے اس کو پڑھتے ہوئے مجھے معلوم ہے کہ بہت سخت دن آگے آنے والے ہیں اور غریب قوموں کا فرض ہے کہ آج سنبھلیں اور اپنے حالات درست کریں، ورنہ ان حالات کا مقابلہ کرنے کی کوئی صلاحیت ان میں باقی نہیں رہے گی۔امیر قومیں ہمیشہ غریبوں کے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر ان کو آپس میں لڑاتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں دونوں طرف کے وہ لوگ امیر قوموں کو اپنا ہمدرد سمجھ رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے لڑتے ایک دوسرے کا خون چوس کر ہتھیار خریدتے اور وہ ہتھیار ایک دوسرے کا خون بہانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔یہ ایک مختصر سی کہانی ہے جو اس سارے دور کی تاریخ کا خلاصہ بن چکی ہے۔ہر سیاستدان یہ جانتا ہے کہ Divide and rule کی پالیسی کوئی ایسی پالیسی تو نہیں جس کو سمجھنے کیلئے غیر معمولی عقل و دانش کی یا تعلیم کی ضرورت ہو۔سکول کا بچہ بچہ بھی جانتا ہے کہ مغربی قوموں نے دنیا پر Divide and rule کے ذریعہ حکومت کی ہے اور ہمارے سیاستدان انہیں سکولوں کے پڑھے ہوئے ہیں۔جہاں ابتدائی قاعدوں میں یہ بات لکھی گئی تھی لیکن مرتے دم تک ہوش نہیں کرتے اس لئے کہ خود غرضی اندھا کر دیتی ہے جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے، جانتے ہیں کہ ہم خود اپنے آپ کو ان لوگوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنائے ہوئے ہیں اور ہمارے عوام کی عزت ، ہماری قوم کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے اس کے باوجود نفسانی خود غرضیوں کے نتیجہ میں وہ تین محرکات جو اس سیاست کے میں نے آپ کے سامنے رکھے تھے وہ ان کی آنکھوں کے سامنے پردے بن جاتے ہیں گویا کہ وہ تین پردے ہیں۔جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔ایک کانوں پر پڑ جاتا ہے، ایک آنکھوں پر پڑ جاتا ہے اور ایک وہ ہے جو دل میں مہر لگا دیتا ہے۔تمام وہ صلاحیتیں مسخ ہو جاتی ہیں جن صلاحیتوں کی قوم کے راہنماؤں کو ضرورت پڑتی ہے۔پس جماعت کو چاہئے کہ ساری دنیا میں یہ باتیں سمجھا سمجھا کر جہاد کریں۔اگر ہم آج نہیں سمجھیں گے تو کل ہم سمجھنے کے لائق نہیں رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔کم سے کم احمدیت کو یہ تو تسلی ہو گی کہ ہم اگر مرے ہیں تو راہ حق میں مرے ہیں، نیکی کی تبلیغ کرتے ہوئے مرے ہیں۔ایسا شخص جو نیک کام پر جان دیتا ہے وہ جس قدم پر گرتا ہے شہادت کی زندگی اسے نصیب ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین