خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 36

خطبات طاہر جلد ۱۲ 36 خطبه جمعه ۸/جنوری ۱۹۹۳ء راہنما رہا تو نہ ہندوستان میں شرافت زندہ رہ سکتی ہے نہ پاکستان میں شرافت زندہ رہ سکتی ہے اور بھی اس قسم کی باتیں ہیں جو مختلف زاویوں سے بیان کی جاسکتی ہیں لیکن وقت چونکہ تھوڑا باقی رہ گیا ہے اس لئے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک دو اقتباس پیش کر کے اب اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔حضور فرماتے ہیں۔اس بات کو کون نہیں جانتا کہ سخت دشمنی کی جڑھ ان نبیوں اور رسولوں کی تحقیر ہے جن کو ہر ایک قوم کے کروڑہا انسانوں نے قبول کر لیا ہے“۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲۳ صفحه ۳۸۳) د, دنیا کی مشکلات بھی ایک ریگستان کا سفر ہے کہ جوئین گرمی اور تمازت آفتاب کے وقت کیا جاتا ہے۔پس اس دشوار گزار راہ کے لئے باہمی اتفاق کے اس سرد پانی کی ضرورت ہے جو اس جلتی ہوئی آگ کو ٹھنڈی کر دے اور نیز پیاس کے وقت مرنے سے بچاوے۔ایسے نازک وقت میں یہ راقم آپ کو صلح کیلئے بلاتا ہے جبکہ دونوں کو صلح کی بہت ضرورت ہے۔۔۔“ آپ ہندو اور مسلمان کو مخاطب ہیں۔آج میں بھی خصوصیت کے ساتھ ہندو اور مسلمان کو، پاکستان کے مسلمان اور ہندوستان کے ہند و کومخاطب ہوتے ہوئے یہ کہتا ہوں۔۔۔جبکہ دونوں کو صلح کی بہت ضرورت ہے۔دنیا پر طرح طرح کے ابتلاء نازل ہو رہے ہیں، زلزلے آرہے ہیں ، قحط پڑ رہا ہے اور طاعون نے بھی ابھی پیچھا نہیں چھوڑا اور جو کچھ خدا نے مجھے خبر دی ہے وہ بھی یہی ہے کہ اگر دنیا اپنی بد عملی سے باز نہیں آئے گی اور بُرے کاموں سے تو بہ نہیں کرے گی۔تو دنیا پر سخت سخت بلائیں آئیں گی۔(پیغام صلح۔روحانی خزائن جلد ۲۳۰ صفحہ ۴۴۴۰) میں جو ہندوستان اور پاکستان کو بار بار عقل اور انصاف سے سمجھوتوں کی تعلیم دے رہا ہوں اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مجھے اس دنیا میں آئندہ بہت بہت خوفناک ابتلاء اور جنگیں دکھائی دے رہی ہیں جو میں سمجھا ہوں کچھ قرآنی تعلیم پر مبنی ایسے ابتلاء ہیں جو عالمگیر ہوں گے اور بہت بڑی تباہیاں لائیں گے اور کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات پر مبنی کچھ سیاسی حالات۔