خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 398 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 398

خطبات طاہر جلد ۱۲ 398 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء جلوہ نمائی سامنے آئے گی ،نرمی کے ساتھ رفتہ رفتہ پیج اپنی کونپلیں نکالے گا اور وہ کونپلیں سرسبز تر ہوں گی اور زیادہ سبز ہوتی چلی جائیں گی، اُن کے اندر سے شاخیں پھوٹیں گی ، اُن کے بندھن مضبوط ہوں گے اور اپنی ذات میں، اپنے وجود میں قائم ہوتے چلے جائیں گے۔تمام دنیا میں جو جماعت احمد یہ پھیل رہی ہے یہ تمثیل اُن پر صادق آ رہی ہے۔لیکن کس قوت سے وہ نشو ونما پائیں گے؟ وہ قوت وہی ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی قوت ہے۔کون سی صفات ہیں جو دوبارہ ان میں جلوہ گر ہوں گی اور ان کی نشو ونما کا موجب بنیں گی ؟ یہ وہی صفات ہیں جن کا ذکر پہلی آیت میں ہے۔أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ - اشدا کا ایک تو معنی یہ ہے کہ زور کے ساتھ اپنا اثر دوسروں پر دکھاؤ، دوسروں میں رائج کر کے دکھا دینا، دوسرے کو اپنے اثر سے مغلوب کر دینا اور ایک اثر ہے کہ دشمن جتنا چاہے اُس سے مغلوب نہ ہونا۔ہر طرح کی کوشش جو دشمن آپ کے اخلاق کو بدلنے کے لئے کرے گا اُس کو نامراد کر دے گا۔اشد ار وہ پتھر ہے مثلاً جو کروڑوں سال بھی پانی میں پڑار ہے تو پانی کا اثر اندر نہیں جاتا۔اتنا وہ آپس میں مضبوطی سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں اُس کے ذرات، جو کسی غیر اثر کو قبول ہی نہیں کرتا۔عیسی علیہ السلام نے جو تشبیہ دی ہے اُس پر اشد آءُ کا معنی صادق آتا ہے مگر ذرا فرق کے ساتھ یہاں زیادہ تر وہ معنی صادق آتا ہے کہ وہ پھیلیں گے، پھولیں گے ، پھلیں گے ، غیر اُن کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا۔اُن کے اخلاق کو بگاڑنے کی کوشش کرے گا مگر نا کام رہے گا کیونکہ وہ وہی بندے ہیں جو محمد رسول اللہ اللہ کے ساتھ تھے۔اگر وہ صفات دوبارہ ان میں پیدا نہ ہوں تو آخرین ہو کر پہلوں سے مل کیسے سکتے ہیں؟ پس ملنے کا مضمون صفاتی مضمون ہے، زمانے کے لحاظ سے تو آپ مل نہیں سکتے، قومی لحاظ سے آپ مل نہیں سکتے۔اگر مل سکتے ہیں تو صفات حسنہ کے ذریعے مل سکتے ہیں اور انہی صفات کے ذریعے مل سکتے ہیں جن کا آیت کے پہلے حصے میں ذکر ہے۔صلى الله پس میں جماعت احمدیہ کو اس بات پر تیار کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور آن لوگوں کی صفات جو معہ تھے، آپ کے ساتھ تھے۔اُن کو اختیار کئے بغیر آپ کی روئیدگی نشو ونما نہیں پاسکتی ہے۔اُن کے بغیر آپ حقیقت میں اُس تمثیل کے آئینہ دار نہیں ہو سکتے ، اس تمثیل کا مظہر نہیں بن سکتے جو تمثیل حضرت عیسی علیہ السلام نے حضرت محمد رسول اللہ یہ کے غلاموں کے متعلق