خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 395 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 395

خطبات طاہر جلد ۱۲ 395 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء ہے کہ دیکھو حلال رزق کھاؤ اور حرام رزق پر منہ نہ مارو اور حلال رزق میں سے وہ کھاؤ جوطیب ہواس کا انسانی معاشرے، انسانی سیاست، انسانی اقتصادیات کی اصطلاح سے بہت گہرا تعلق ہے۔اگر ہر انسان اور ہر قوم حلال رزق پر قائم ہو جائے اور یہ فیصلہ کر لے کہ ہم نے حرام رزق پر منہ نہیں مارنا۔حرام رزق سے مراد صرف وہ رزق مراد نہیں جس کو خدا نے گوشت وغیرہ یا بعض ایسے کھانے جن کو حرام قرار دیا۔حرام رزق میں حرام طریقے سے کمایا ہوا ہر قسم کا رزق شامل ہو جاتا ہے۔دوسری قوموں پر ظلم کر کے چھینا ہوا رزق بھی اس میں شامل ہو جاتا ہے۔غرضیکہ حرام رزق کا تعلق ہر اس رزق سے ہے جو انسان ناجائز ذرائع سے کماتا ہے اور کھاتا ہے۔پس اس پہلو سے اس آیت کا اس آیت سے ایک اور جوڑ قائم ہوتا ہے کیونکہ فرمایا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا وہ اللہ کا فضل چاہتے ہیں۔فضل کے مختلف معنی ہیں مگر بنیادی معنی فضل کا یہ ہے کہ جو زائد چیز کسی کو حاصل ہو جائے اگر وہ زائد چیز بیہودہ ہو تو اُس کو فضول کہتے ہیں۔اگر وہ اچھی ہو تو اُس کو فضیلت کہتے ہیں۔یہاں جس فضل کا ذکر ہے وہ فضیلت والے فضل کا ذکر ہے۔اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جا سکتا۔بہت وسیع مضمون ہے جس کا فضل کے معنوں سے تعلق ہے۔میں اُس حصے کو صرف بیان کروں گا جو اس وقت میرے مضمون میں پیش نظر ہے اور وہ ہے رزق کا حصول تجارت کے ذریعے جو منافع آتا ہے اصل سے بڑھتا ہے اُس کو بھی فضل کہتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے جہاں نماز جمعہ میں آنے کے لئے تجارت سے روکا، اُس کے بعد جب دوبارہ جانے کی اجازت دی تو فضل کے حصول کے ساتھ اُس کا ذکر فرمایا ہے۔فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (الجمعه (1) تو یہاں نماز جمعہ کے بعد زمین میں منتشر ہو کے جس فضل کے حصول کا ذکر فرمایا گیا ہے۔یہ وہی تجارت والا فضل ہے جس کے متعلق پہلے فرمایا کہ نماز جمعہ کی خاطر اس سے رُک جاؤ۔پس اور بھی بہت سے قرآن کریم میں لفظ فضل کے استعمالات ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ دنیاوی رزق پر بھی جو برکت کے طور پر انسان کو عطا ہوتا ہے فضل کا لفظ صادق آتا ہے اور اطلاق پاتا ہے۔پس وہاں خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ تم رزق حلال کماؤ اور کھاؤ۔رزق حرام نہ کھانا۔اگر رزق حرام کھاؤ گے تو