خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 394 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 394

خطبات طاہر جلد ۱۲ 394 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس تعلق میں جاپان نے جو کور یا پر ظلم کئے تھے، اُن سے متعلق الہام ہوا جو آپ کے وصال کے بہت بعد میں پورا ہوا۔لیکن بڑی شان کے ساتھ کھل کر پورا ہوا۔وہ تھا کہ ایک مشرقی طاقت، الفاظ میں شاید کوئی فرق پڑ جائے مگر مضمون یہی ہے ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت ہے۔“ ( تذکرہ صفحہ ۴۲۹) یعنی کو ریا پر ایک مشرقی طاقت ایسے مظالم کرے گی کہ وہ آخری دموں تک پہنچ جائے گا اور کوریا پر جو جاپان کے مظالم ہیں اُن کی جو تاریخ میں ان کا ذکر موجود ہے اُس کو پڑھ کر دیکھ لیں کہ اتنے شدید مظالم تھے، ایسے بہیمانہ مظالم تھے کہ واقعہ یہ بات سمجھ آ جاتی ہے کہ کیوں الہام الہی میں اُن کا ذکر فر مایا گیا۔وہ عام دنیا میں ہونے والے مظالم سے مختلف اور زیادہ شدید تھے۔پس آشڈ آر کے مضمون کو آپ اچھی طرح سمجھ لیں۔آپ نے شدید ان معنوں میں نہیں ہونا کہ آپ پتھر دل رکھتے ہیں اور اُس کے اوپر نرمی کی ہلکی سی ایک تہہ ہے جو تہذیب کی ایسی تہہ ہے جیسے پتھر کے اوپر مٹی پڑی ہو اور اُس پر روئیدگی ہو جائے۔آپ کی بنیا درحمت پر ہے اور اُس رحمت کو غیروں کے اثر سے بچانے کے لئے آپ کو شدت کا ایک خول عطا ہوا ہے۔وہ خول آپ کی حفاظت کے لئے ہے۔وہ اس مقصد کے لئے ہے کہ جب آپ غیروں سے تعلق جوڑیں گے تو کہیں اُن کے بداثرات کو قبول نہ کر لیں۔پس آپ کی رحمت کی حفاظت کی خاطر وہ شدت ہے جس کا اشداء عَلَى الكُفَّارِ میں ذکر فرمایا گیا ہے۔پھر فرمایا رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَريهُمْ رُكَعًا سُجَّدًا اُن کے اندر کوئی تکبر نہیں پایا جاتا۔اگر اشد آ فی ذاتہ ہو تو متکبر لوگ ہونے چاہئیں جیسے بعض قو میں ہیں جیسے پٹھانوں میں شدت پائی جاتی ہے۔اُن کے رکوع وسجود میں بھی ایک قسم کی سختی پائی جاتی ہے، دل نرمی سے عاری ہیں۔فرمایا یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ سے تربیت پانے والے ہیں۔صلى الله محمد رسول اللہ ﷺ سے تربیت پانے والے تو بے حد رُحَمَاءُ ہیں اور تَريهُمْ رُكَعَا سُجَّدًا تو اُن کو ہمیشہ خدا کے حضور جھکے ہوئے دیکھے گا اور سجدے کی حالت میں پائے گا۔يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا وہ اللہ ہی سے فضل طلب کرتے ہیں اور اُسی کی رضا چاہتے ہیں۔اس مضمون کا تعلق اس آیت کریمہ سے ایک اور رنگ میں بھی قائم ہو جاتا ہے۔جس کی تفصیل میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ اقتباس پڑھا تھا۔اس آیت میں ذکر یہ