خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 391
خطبات طاہر جلد ۱۲ 391 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء پھر وَالَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ اُن میں محمد مصطفی ﷺ کی رسالت کیا رنگ بھرتی ہے؟ آپ کی معیت سے اُن میں کیا پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں؟ کیا کردار اُن کا ابھرتا ہے اس معیت کے نتیجے میں، اس کی تفصیل بیان فرمائی گئی۔وَالَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُم وہ کفار پر بہت شدید ہیں۔اس مضمون پر میں پہلے بھی ایک خطبے میں تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں۔کفار پر شدید کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ دلوں کے سخت ہیں، یا پتھر دل لوگ ہیں یا اُن میں غصہ پایا جاتا ہے یا اُن میں بداخلاقی کی حد تک تیز کلامی پائی جاتی ہے اور معاف کرنا نہیں جانتے یا وہ ہر طرح کے دشمن کو کچلتے اور زیر کرتے اور ذلیل ورسوا کرتے ہیں۔ایک اشد آ کے یہ بھی معنی ہیں مگر اشد آپ کے یہ معنی دلوں کی سختی سے تعلق رکھتے ہیں۔بعض قوموں میں یہ ظلم کا مادہ پایا جاتا ہے، خواہ بظاہر وہ رحمان اور رحیم نظر آتے ہیں۔اب بوسنیا کے مسلمانوں پر جو مظالم ہورہے ہیں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ لوگ دل کے سخت ہیں بظاہر رحم کرنے والے ہیں۔دل کے ایسے سخت ہیں کہ ایسے ایسے ہولناک مظالم اس تہذیب کے زمانے میں جس میں یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری تہذیب دنیا کی چوٹی پر پہنچ چکی ہے، ترقیات کی چوٹی پر پہنچ چکی ہے ایسے ایسے مظالم کر رہے ہیں جو پرانے زمانے کے بہیمانہ مظالم کو شر مار ہے ہیں ، اُن کی کوئی حیثیت نہیں۔آج کے متمدن زمانے میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس قدر انسان گراوٹ اختیار کرتے ہوئے بہیمانہ حرکتیں کرے گا، جانوروں کی سطح پر اتر جائے گا اور دیکھے گا اور ایسی حرکتیں کرنے دے گا۔پس أَشِدَّاءُ کا یہ معنی نہیں ہے۔أَشِدَّاءُ کا تعلق جو محمد رسول اللہ کے غلاموں کی صفت کے طور پر بیان کیا گیا ہے، دلوں کی سختی اور کرختگی سے نہیں ہے۔اس کے دو معنی ہیں۔اوّل یہ کہ وہ دشمنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔اپنی صفات حسنہ کو اُن میں جاری کرتے ہیں۔دوسرے ہیں اُن کی صفات کو قبول نہیں کرتے۔اُن کی گندی عادتیں اور بری عادتیں ، اُن کے معاشرے کی خرابیاں اُن کے معاشرے میں اثر انداز نہیں ہوسکتیں، اُن کی طرز زندگی پاکیزہ ہے تو پاکیزہ ہی رہتی ہے۔پس وہ تبدیل کرنے والے لوگ ہیں تبدیل ہونے والے لوگ نہیں ہیں۔اس پہلو سے جب آپ مسلمانوں کا جائزہ لیتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ بڑے بڑے معاشروں کو تبدیل کیا ہے ، بڑی بڑی تہذیبوں