خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 390 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 390

خطبات طاہر جلد ۱۲ 390 خطبه جمعه ۲۱ مئی ۱۹۹۳ء کی ضرورتیں بھی پوری کریں گے کیونکہ وہ بھی ہمارے آقا و مولا نے پوری فرمادی ہیں کیونکہ اُن کا پیغام عالمی بھی ہے اور ہمیشہ کے لئے بھی ہے۔ ساتھ یہ بھی دعوی کرتے ہو کہ ہم زرتشتیوں کی ضرورتیں بھی پوری کریں گے، اُن کی پیاس بھی بجھائیں گے، اُن کی توانائی کی تمام ضروریات بھی ہمارے ہاتھوں سے پوری ہوں گی۔ ہم کنفیوشس کے ماننے والوں کی بھی ضرورتیں پوری کریں گے، ہم موسی کے ماننے والوں کی ضرورتیں بھی پوری کریں گے اور عیسی کے ماننے والوں کی ضرورتیں بھی پوری کریں گے اور اُن Oborigine جو قدیم زمانوں سے تعلق رکھنے والی قو میں ہیں جن کے ہاں وقتی تقاضوں کے لحاظ سے چھوٹے چھوٹے رسول آئے تھے اُن سب کی ضرورتیں بھی پوری کریں گے۔ خواہ وہ آسٹریلیا کے Oborigine ہوں یا جنوبی امریکہ میں بسنے والے ہوں، شمالی امریکہ کے ریڈ انڈینز ہوں تو یہ پیغام ہے جو مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ دو لفظوں کے اندر جماعت احمد یہ کو دیا گیا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تم سے بہت بلند توقعات ہیں اتنی کہ جلد پوری ہو نہیں سکتیں۔ صبر کے ساتھ لمبے عرصے تک تمہیں محنتیں کرنی ہوں گی۔ تب جا کر تم ان توقعات پر پورا اتر و گے ایک دن میں یہ رفعتیں حاصل نہیں ہوسکتیں۔ جلد جلد رفعتیں حاصل کرنے کا زمانہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کا ذاتی اپنا، وہ زمانہ تھا جس میں آپ زندہ تھے۔ وہ ایک عجیب شان تھی ایک ایسا جلوہ تھا جو بڑی تیزی کے ساتھ پھیلا ، بڑی تیزی کے ساتھ حیرت انگیز انقلابی تبدیلیاں برپا کر دیں۔ مسیح موعود علیہ السلام یہ فرما رہے ہیں کہ تم اس دوسری مثال سے تعلق رکھتے ہو جو مسیح نے دی تھی ۔ صفات تو محمد مصطفی اللہ ہی کی ہیں، صفات تو اُن لوگوں کی ہیں جو آپ کے ساتھ ہیں لیکن یہ رفتہ رفتہ لمبی محنتوں کے ساتھ اور صبر کے ساتھ حاصل ہونے والی صفات ہیں۔ اس لئے میں توقع رکھتا ہوں کہ تم اس سفر پر بڑی وفا کے ساتھ قدم مارتے رہو گے جب تک ان رفعتوں کو حاصل نہیں کرو گے جو مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةً نے حاصل کیں ۔ اُس وقت تک تھکو گے نہیں ، ماندہ نہیں ہو گے، ہمت نہیں ہارو گے۔ مسلسل صبر اور دعاؤں کے ساتھ اسی رستے پر گامزن رہو گے۔ یہ وہ پیغام تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس تحریر میں آپ کو دیا جس کا گزشتہ جمعہ میں میں نے ذکر کیا تھا۔