خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 389
خطبات طاہر جلد ۱۲ 389 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء بخشش کرو، بخشش کروں بخشش کرو تو بظاہر وہ ایک پہلو ہے صرف۔انسانی اخلاق کی مکمل تصویر نہیں کھینچتا ، انسانی اخلاق کا صرف ایک پہلو ہے لیکن سنگ دل بنی اسرائیلیوں کے لئے وہ یہود جن کے دل پتھر ہو چکے تھے اُن کے لئے اُس وقت بدلے کی اجازت دینا یا بدلے کی اجازت پر زور دینا نامکمل تعلیم تھی ان کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتی تھی۔پس وقت کی نسبت سے مکمل تعلیم کا تقاضا یہ تھا کہ مغفرت پر زور ہو اور بخشش اور بخشش اور پھر بخشش تذکرے چلیں یہاں تک سخت دلوں میں نرمی پیدا ہو جائے۔یہ وہ مضمون ہے جو رسالت کے ساتھ وابستہ ہے۔رسالت مختلف زمانوں میں، مختلف قوموں میں مختلف جلوے دکھاتی ہے لیکن ہر جلوہ اپنے وقت اور اپنی قوم کی ضرورت کی مناسبت سے مکمل ہوا کرتا ہے ور نہ خدا پر یہ الزام آئے گا کہ اُس نے نامکمل تعلیمات دیں جو وقت کی ضرورت اور قوم کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتی تھیں مگر جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ تو مضمون بہت وسعت اختیار کر جاتا ہے۔یہ کل عالم پر بھی چھا جاتا ہے، تمام زمانوں پر بھی چھا جاتا ہے۔یہاں تکمیل کے معنی بدل جاتے ہیں، یہاں تکمیل تمام زمانوں کی ضرورتوں کے لحاظ سے تکمیل ہے، یہاں پیغام کی وسعت ہر قوم کی ضرورت کے لحاظ سے سارے عالم پر پھیل جاتی ہے۔پس یہ توقعات ہیں آپ سے، آپ محمد رسول اللہ کے غلام بن چکے ہیں، آپ کی غلامی کا دعوی کرتے ہیں تو سارے بنی نوع انسان کی ضروریات کا آپ کو خیال رکھنا پڑے گا، تمام زمانوں کی ضروریات کا آپ کو کفیل ہونا پڑے گا۔پس کتنا بڑا پیغام ہے جو ان دو لفظوں میں بیان فرما دیا گیا۔مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله محمد اللہ کے رسول ہیں اور محمد کی رسالت کے پیش نظر تم سے توقعات کی گئیں۔تم موسی کے غلام نہیں ہو، تم عیسی کے غلام نہیں ہو۔وہ اُن کی تصدیق کرتے تھے، وہ اُن کو اللہ کا سچارسول سمجھتے تھے لیکن تم کرشن کو بھی سچا رسول سمجھتے ہو لیکن کرشن کے تم غلام نہیں کیونکہ محمد رسول اللہ کی غلامی میں تمام انبیاء کی غلامی آگئی۔تمام انبیاء نے اپنے اپنے زمانے میں جو ضرورتیں پوری کیں اُن کے حد امکان تک اُن سب ضرورتوں کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔محمد رسول اللہ کی غلامی میں وہ ساری ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔پس دوسرے لفظوں میں یہ کہنا پڑے گا کہ جب تم کہتے ہو مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله محمد رسول اللہ کی غلامی کا دعوی کرتے ہو۔تم یہ کہتے ہو کہ ہم کرشن کی قوم کی ضرورتوں کو بھی پوری کریں گے کیونکہ وہ بھی ہمارے آقا و مولا محمد ﷺ نے پوری فرما دیں، ہم بدھ قوم