خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 388

خطبات طاہر جلد ۱۲ 388 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء نسبت کے ساتھ وہ رسول ضر در مکمل پیغام لاتا ہے۔پس رسالت میں تبلیغ رسالت بھی آ جاتی ہے اور پیغام کی تکمیل بھی شامل ہے۔حضرت محمد رسول اللہ ملا ہے اور پہلے رسولوں میں فرق یہ ہے کہ پہلے رسول اپنے اپنے زمانوں کے رسول تھے اور قوموں کے رسول تھے۔قیامت تک کے ہر زمانے پر اُن کا پیغام چھایا ہوا صلى الله۔نہیں تھا اور سارے عالم کی ضروریات پر اُن کا پیغام چھایا ہوا نہیں تھا۔پس حضرت محمد رسول اللہ یہ کا دین اگر کامل ہوا تو اُن مخاطبین کے رشتے سے اس میں ایک وسعت پیدا ہوئی کیونکہ تخاطب ساری دنیا سے تھا ، کیونکہ خطاب ہر زمانے سے تھا اس لئے کمال اس نسبت سے کمال بنا یعنی ایسا کمال جس کے بعد اس سے اوپر کمال کا تصور ہی نہیں ہوسکتا۔وہ پیغام جو حضرت موسی نے دیاوہ بنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے دیا تھا اور ایک زمانے تک اُس پیغام نے اپنا اثر دکھانا تھا اور اس کے بعد اُس پیغام کی حیثیت ایک گزرے ہوئے پیغام کی سی بن گئی۔جب تک عیسی علیہ السلام تشریف نہیں لائے اُس پیغام کا ایک حصہ جاری رہایا ہر حصہ جاری رہا کہنا چاہئے مگر حضرت عیسی علیہ السلام کے آنے کے بعد اُس کا ایک حصہ ماضی میں دفن ہو گیا اور ایک دوسرا حصہ جاری ہوا۔پیغام وہی تھا، اس کی خصوصیت کے ساتھ جو بات میں سمجھا رہا ہوں وہ یہ ہے کہ موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے دور میں اُس پیغام نے جو تکمیل کی شکل اختیار کی ، وہ بنی اسرائیل کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مکمل ہوا۔اُن ضروریات میں بدلہ لینا ایک ضرورت تھی اور وقت کی اہم ترین ضرورت تھی، بنی اسرائیل بے حد بزدل ہو چکے تھے۔فراعین مصر کے مظالم کے نیچے اُن کے اخلاق حسنہ اس طرح بُری طرح کچلے گئے تھے کہ بزدلی کا نام اُنہوں نے بخشش رکھ لیا تھا۔اُن میں طاقت نہیں تھی کہ ظالم کے مقابل پر اٹھ کھڑے ہوں اور ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ دیں۔چنانچہ بزدلی میں چھپ کر وہ اُس کا نام مغفرت رکھتے تھے کہ ہم معاف کر دیتے ہیں۔حضرت موسیٰ" کے زمانے میں اگر اُن کو مغفرت کی اجازت دی جاتی تو وہ پیغام نامکمل ہوتا کیونکہ انہوں نے مغفرت کی پناہ گاہ میں جا کر پھر بزدلی کے نمونے دکھانے تھے۔پس وقتی طور پر اُن پر بدلہ لینا تقریبا فرض کر دیا گیا۔بدلہ لینے پر اتنا زور دیا گیا کہ گویا اُن کو بخشش کی اجازت ہی نہیں حالانکہ اجازت موجود تھی لیکن زور بدلے پر تھا۔پس وقت کی ضرورت کے مطابق وہ مکمل پیغام تھا۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے دور میں جا کر پھر اُس کے دوسرے پہلو پر زور دیا گیا۔