خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 387 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 387

خطبات طاہر جلد ۱۲ 387 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء پہنچے گی اور بہت دل کو راحت ہوگی ، دشمن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔لِيَغِيظُ بِهِمُ الْكُفَّارَ کے ساتھ یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ غصہ ضرور دکھائے گا جواب میں وہ بہت ہی جاہلانہ حملے بھی کرے گا اور کوشش ضرور کرے گا غیظ کے نتیجے میں کہ اس کھیتی کو مٹادے، پاؤں تلے روند ڈالے مگر ایسا نہیں ہو سکے گا۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمُ (نور:۵۶) کیونکہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اللہ کے وعدہ کے نتیجے میں ہے وہ وعدہ جو اُس نے مومنوں سے کیا، جو نیک اعمال بجالانے والے ہیں۔پس اگر وہ مومن اس شرط پر قائم رہیں کہ اُن کے اعمال نیک ہوں تو پھر وہ ضرور نشو ونما پائیں گے۔یہاں جو یہ شرط رکھی گئی وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ مِنْهُمُ مَّغْفِرَةً وَ اَجْرًا عَظِيمًا یہ وہ عمل صالح کی شرط ہے جو آخرین کو پہلوں سے ملاتی ہے۔یہ وہ آپس میں جوڑنے کا رشتہ ہے جو وہ مضبوط رسی ہے جس کے ذریعے آخرین اولین سے ملیں گے پس امَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ مِنْهُم عملی جو رشتہ قائم کیا ہے اولین سے۔یہ دوبارہ ہمیں پہلی آیت کی طرف لے جاتا ہے۔وہ اعمالِ صالحہ کیا تھے ؟ جن کے نتیجے میں اولین پر فضل نازل ہوئے۔وہی اعمالِ صالحہ دوبارہ فضل کا موجب بنیں گے، وہی اعمالِ صالحہ دوبارہ نشو و نما کا موجب بنیں گے، وہ ہیں کیا ؟ اُن کو سمجھنے کے لئے پھر ہمیں آیت کے پہلے حصے کی طرف لوٹنا ہو گا اور یہی وہ توقعات ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اُس تحریر میں ذکر فرمایا ہے جو میں نے پہلے پڑھ کر سنائی تھی۔فرمایا کہ تم سے یہ توقعات ہیں تم یہ بنو گے تو دنیا میں ترقی کرو گے تم یہ بنو گے تو دنیا کے نجات دہندہ بنو گے اگر نہیں تو پھر یہ وعدے تمہارے حق میں پورے نہیں ہو سکتے۔وہ یہ ہیں مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله محمد اللہ کے رسول ہیں۔اس چھوٹے سے جملے میں بہت سی صفات بیان فرما دی گئی ہیں۔جن کا رسالت سے تعلق ہے اور رسالت ایک عظیم مضمون کو بیان کرتی ہے جو زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے کیونکہ ہر رسول ایک ایسا پیغام لے کر آتا ہے جو اپنے وقت کے زندگی کے ہر شعبے پر ضرور حاوی ہوتا ہے۔وہ رسول خواہ نسبتاً نا مکمل پیغام لایا ہولیکن جب ہم اُسے نامکمل کہتے ہیں تو آئندہ آنے والے پیغامات کے مقابل پر نامکمل کہتے ہیں۔یہ ناممکن ہے کہ ایک رسول اپنے وقت اور اپنی قوم کی ضروریات کے لحاظ سے نامکمل پیغام لایا ہو نسبتی چیز ہے۔ہر وقت کی